سرینگر//منگل کے روز پہلگام میں ہوئے سیاحوں پر حملے کے خلاف جمعرات کو نگین کے ہاوس باٹ مالکان، شکارہ والوں ، ہوٹل مالکان اور دیگر متعلقین نے احتجاج کرتے ہوئے اس فعل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس کے خلاف نعرے لگے پلے کارڈ ہاتھوں میں اُٹھائے ملوثین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق اسٹینڈ 1 اور اسٹینڈ 2 کے ہاؤس بوٹ مالکان، شکارہ آپریٹرز، ڈرائیوروں، شال بیچنے والوں، اور سری نگر کی نگین جھیل کی سیاحتی صنعت سے وابستہ دیگر کاروباری اسٹیک ہولڈرز نے بدھ کو پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک پرامن احتجاج کیا۔مظاہرین نے اس واقعے کیخلاف نعرے بازی کی اور اس حملے کو نہ صرف معصوم سیاحوں پر حملہ بلکہ کشمیر کے اہم سیاحت کے شعبے پر براہ راست دھچکا قرار دیا۔ایک احتجاج کرنے والے محمد یعقوب ڈنو نے کہاکہ یہ محض سیاحوں پر حملہ نہیں ہے ،یہ ہماری روزی روٹی، ہمارے امن، اور مہمان نواز علاقے کے طور پر ہماری شناخت پر حملہ ہے۔ہم، کشمیر کے لوگ جو سیاحت پر انحصار کرتے ہیں، گہرے دکھ اور صدمے کا شکار ہیں۔مظاہرین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد کی ایسی کارروائیاں ہزاروں کشمیریوں کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں جو وادی میں امن برقرار رکھنے اور سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ٹورازم ایکو سسٹم سے تعلق رکھنے والے ارکان، بشمول کاریگر، گائیڈ، ٹرانسپورٹرز، اور دکاندار، تشدد کی مذمت میں متحد ہو گئے۔ انہوں نے کہا، “ہم دنیا کو جاننا چاہتے ہیں کہ کشمیری اس طرح کی بربریت کی حمایت نہیں کرتے۔ ہم اس مشکل وقت میں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔احتجاج کا اختتام امن، سلامتی اور وادی میں آنے والے ہر سیاح کے تحفظ کے مطالبے کے ساتھ ہوا۔










