گنڈ بل بٹوارہ سانحہ کا چوتھا دن :برستی بارش کے باوجود لاشیں ڈھونڈنے کیلئے کارروائی جاری رہی

سرینگر///بٹوارہ گنڈ بل علاقے میں پیش آئے واقعے کے چوتھے دن بھی این ڈی آر ایف ، ماہر خوطہ خوروں اور پولیس و دیگر رضاکاروں کی جانب سے لاپتہ افراد کی لاشیں ڈھونڈنے کی کارروائیاں جاری رکھیں تاہم آخری اطلاع ملنے تک کسی بھی شخص کی لاش بازیاب نہیں ہوئی تھی ۔ ذرائع کے مطابق سرینگر کے بٹوارہ گنڈبل علاقے میں منگل کے روز پیش آئے حادثے میں لاپتہ ہوئے افراد کو ڈھونڈنے کیلئے جمعہ کوبرستی بارش کے باوجود چوتھے دن صبح ہی سے آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا تاہم 2معصوم بچوں سمیت تین افراد کی لاشیں ابھی بازیاب نہیں ہوئی ہیں۔ اس بیچ علاقہ میں آہ و بقا ء کا عالم جاری ہے اور جگر سوز صدائیں آج بھی فضاء میں گونج رہی تھیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق دریائے جہلم سے باپ بیٹے سمیت تین افراد کی لاشیں نکالنے کے لیے سرچ آپریشن جمعہ کی صبح دوبارہ شروع ہوااور موسم کی خرابی کے باوجود رضاکار، این ڈی آر ایف ، پولیس اور دیگر لوگ لاشیں ڈھونڈنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے ۔ منگل کو گنڈ بل بٹوارہ میں دریائے جہلم میں تقریباً 19 افراد کو لے جانے والی کشتی ڈوبنے کے بعد شروع ہونے والا ریسکیو آپریشن کل دیر رات اندھیرے کی وجہ سے روک دیا گیاتھا جس کو جمعہ کو دوبارہ شروع کیا گیا ۔ اس سانحے میں چھ افراد ڈوب کر ہلاک اور دس افراد زندہ بچ گئے۔ تاہم مقامی لوگوں کے مطابق تین افراد ابھی تک لاپتہ ہیں اور ان کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔لاشوں کو نکالنے کے لیے ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس، فوج کے علاوہ دیگر افراد کی ٹیمیں جو پانی سے لاشوں کو نکالنے میں مہارت رکھتی ہیں، اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مصروف ہیںذرائع نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن اس وقت دریائے جہلم کے متعدد مقامات پر جاری ہے اور مختلف مقامات کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ کشتی الٹنے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی لاشیں نکالی جا سکیں۔جن افراد کی لاشیں جہلم سے برآمد ہونا باقی ہیں ان میں ایک شخص شوکت احمد شیخ ولد عبدالغنی اور دو اسکولی بچے -حاذق شوکت ولد شوکت احمد اور فرحان وسیم پرے شامل ہیں – تمام گنڈبل، سری نگر کے رہنے والے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی منگل کو بٹواہ گنڈہ بل میں منگل کی صبح اُس وقت قیامت صغریٰ بپا ہوئی جب 20افراد پر مشتمل ایک کشتی دریائے جہلم میں ڈوب گئی جس کے نتیجے میں کشتی میں سوار سکولی بچوں سمیت 6افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ تین ہنوز لاپتہ ہے اور پانے میں بہنے والے 10افراد کو بچالیا گیا ہے ۔ واقعے کے فورا بعد ضلع انتظامیہ اور پولیس افسران کے ساتھ ساتھ این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے بچائو کارروائیاں شروع کیں۔ عین شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی میں ایک درجن کے قریب طلبا سمیت 19افراد سوار تھے جن میں سے کشتی بان، خاتون سمیت تین افراد کسی طرح دریا کے کنارے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔عین شاہدین نے بتایا کہ صبح سات بجکر 30منٹ پر گنڈ بل کے مقام پر ایک کشتی جس میں ایک درجن کے قریب طلبا ،مزدور اور دیگر افراد شامل تھے اچانک پانی میں الٹ گئی جس کی وجہ سے کشتی میں سوار سبھی افراد ڈوب گئے۔انہوں نے بتایا کہ کشتی بان، خاتون سمیت تین افراد کسی طرح دریائے جہلم کے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تاہم کشتی میں سوار دیگر افراد کو پانی کے تیز بہاو نے بہا کر لیا۔عین شاہدین نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ کشتی میں لگ بھگ 20سے 25افراد سوار تھے جن میں 8سے 12طلبا، مزدور اور خواتین بھی شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صبح ساڑھے سات بجے واقع پیش آنے کے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ سے وابستہ آفیسران اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں دس بجے جائے موقع پر پہنچے۔سٹی رپورٹر نے بتایا کہ پانی میں غرقآب ہوئے سات افراد کو فوری طورپر صدر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے دو بھائیوں سمیت چھ کو مردہ قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ گیارہ بجے کے قریب دو بھائیوں کی لاشیں آبائی علاقے پہنچائی گئی تاہم ان کی ماں بھی پانی میں غرقآب ہوئی اور ابھی تک اس کا کئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ادھر متوفین کی شناخت شبیر احمد بھٹ ولد بشیر احمد بٹ سکنہ گنڈ بل، رضیہ ولد غلام محمد گوجری سکنہ گنڈ بل، گلزار احمد ڈار ولد محمد جمال ڈار سکنہ گنڈ بل، فردوسہ دختر فیاض احمد ملک ساکن گنڈ بل، تنویر فیاض ولد فیاض ملک ساکنہ شیو پورہ، مدثر فیاض ولد فیاض ملک سکنہ شیو پورہ کے طور پر ہوئی ہے۔جبکہ مسرت بیگم ولد وسیم احمد پارے سکنہ گنڈ بل، ارشادہ بلال ولد بلال احمد زرگر سکنگ گنڈبل ، غلام نبی خان سکنہ برین نشاط ح گنڈبل، معراج الدین ڈار ولد عبد الخالق سکنہ گنڈیل، نور محمد عرف بند ولد عبد الخالق سکنہ گنڈ بل، عائشہ دختر بلال احمد زرگر سکنہ گنڈ بل، انشاء بلال دختر بلال احمد زرگر ، حمر یادختر شبیر احمد شیخ سکنہ گند بل، محمد رفیق بھٹ ولد محمد یوسف بھٹ سکنہ گنڈیل اور مشتاق احمد شیخ صلوح قادر سکنہ گنڈیل کو بچالیا گیا ہے۔ فرحان و سیم پرے ولد ار تیاز بھٹ سکنہ گنڈ بل، حاذق شوکت ولد شوکت احمد سکنہ گنڈ بل اور شوکت احمد شیخ ولدعبد الغنی سکنہ گنڈ بل ہنوز لاپتہ ہیںاور تینوں لاپتہ افراد کی لاشیں ڈھونڈنے کیلئے کارروائی جاری ہے جبکہ دریائے جہلم کے مختلف علاقوں میں جمعہ کو لاشیں ڈھونڈنے کا کام جاری رہا اگرچہ موسم ابتر رہا لیکن ریسکیو آپریشن میں کوئی خلل نہیں پڑا۔