محکمہ ہیلتھ سروس کشمیر کی جانب سے تحقیقات کا حکم
سرینگر / این این بی // گریز میں حاملہ خاتون کی موت کے بعد محکمہ صحت نے تحقیقات کے احکامات جاری کرتے ہوئے چار رکنی کمیٹی کو پانچ روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق محکمہ ہیلتھ سروس کشمیر نے ضلع بانڈی پورہ کے گریز سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کی موت کی تحقیقات کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو یہ بھی معلوم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ آیا خاتون کی موت کسی قسم کی طبی غفلت یا علاج میں کوتاہی کے باعث ہوئی۔محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق گریز کے تلیل علاقے کے مڑگنڈ گاو ¿ں کی رہائشی حسینہ بیگم، زوجہ شوکت احمد لون کی 14 اکتوبر کو موت واقع ہوئی۔ڈپٹی ڈائریکٹر اسکیمز ڈاکٹر صبا وانی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ حکم نامہ جاری ہونے کے پانچ روز کے اندر اپنی رپورٹ محکمہ کو پیش کرے۔ کمیٹی بالخصوص اس امر کا جائزہ لے گی کہ آیا خاتون کی موت طبی غفلت کے باعث ہوئی یا نہیں۔کمیٹی میں ضلع اسپتال بانڈی پورہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مختار احمد ملہ، غوثیہ اسپتال سرینگر کی کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر روحانہ علی اور محکمہ صحت کی میڈیکل آفیسر و نوڈل افسر ڈاکٹر مصدق احمد خان شامل ہیں۔خیال رہے کہ حاملہ خاتون کو دوران حمل پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد 14 اکتوبر کی صبح ڈسٹرکٹ اسپتال بانڈی پورہ منتقل کیا گیا تھا، جہاں اس کے بچے کی مردہ حالت میں پیدائش ہوئی۔رپورٹ کے مطابق خاتون کو منگل کی دیر شام ابتدائی طور پر شیخ پورہ کے پرائمری ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا تھا، تاہم وہاں مبینہ طور پر کوئی طبی عملہ موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد اسے سب ڈسٹرکٹ اسپتال گریز منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے خون کی کمی اور حالت کی سنگینی کے پیش نظر مزید علاج کے لیے بانڈی پورہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔اب تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی خاتون کی موت سے متعلق تمام حالات و واقعات کا جائزہ لے گی اور یہ طے کرے گی کہ آیا طبی نگہداشت میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہوئی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے مزید کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔










