25 اکتوبر کو کشمیر میراتھن کا تیسرے ایڈیشن

25 اکتوبر کو کشمیر میراتھن کا تیسرے ایڈیشن

گلمرگ اور پہلگام میں سات روزہ گالف کورسز منعقد کرنے کا منصوبہ زیر غور / ناظم سیاحت کشمیر

سرینگر / این این بی // کشمیر میراتھن کو جموں و کشمیر کے سیاحتی کلینڈر کا مستقل اور سالانہ حصہ بنایا جائے گا کا اعلان کرتے ہوئے ناظم سیاحت کشمیر سید قمر سجاد نے کہا کہ مستقبل میں 5 اور 10 کلومیٹر کی دوڑوں کا انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو کھیلوں اور فٹنس سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جاسکے اور وادی میں اسپورٹس ٹورازم کو مزید فروغ دیا جائے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق خبر رساں ایجنسی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں ناظم سیاحت کشمیر سید قمر سجاد نے کہا ہے کہ کشمیر میراتھن کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد 25 اکتوبر کو متوقع ہے، جس میں 73 غیر ملکی رنرز سمیت 2 ہزار سے زائد ایتھلیٹس کی شرکت متوقع ہے۔ ایونٹ کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ناظم سیاحت نے بتایا کہ اب تک تقریباً 1800 شرکاءنے میراتھن کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ 22 سے 24 اکتوبر تک منعقد ہونے والے تین روزہ ایکسپو کے دوران مزید 200 سے 400 ایتھلیٹس کے رجسٹریشن کرانے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میراتھن کو ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل میراتھنز اینڈ ڈسٹنس ریسز کے کلینڈر میں شامل کیا جانا اس ایونٹ کو مستقل بنیادوں پر منعقد کرنے اور کشمیر کو عالمی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر ابھارنے میں مددگار ثابت ہوگا۔سید قمر سجاد نے کہا کہ کشمیر میراتھن محکمہ سیاحت کا ایک برانڈ بنے گی اور ہر سال باقاعدگی سے منعقد کی جائے گی۔ڈائریکٹر ٹورازم نے بتایا کہ اس سال کشمیر میراتھن میں جموں و کشمیر کے ڈومیسائل رکھنے والے ایتھلیٹس کے لیے الگ انعامی زمرہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی رنرز کی حوصلہ افزائی، انہیں اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرنا اور نوجوانوں میں دوڑ اور فٹنس کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میراتھن میں اکثر افریقی ممالک، خصوصاً کینیا کے ایتھلیٹس نمایاں رہتے ہیں، تاہم مقامی کھلاڑیوں کو بھی مناسب مواقع اور حوصلہ افزائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق پولیس اور ضلعی انتظامیہ سمیت مختلف اداروں کی جانب سے بھی دوڑ کے مقابلے منعقد کیے جارہے ہیں، جس سے کھیلوں کی سرگرمیوں میں عوام کی شرکت میں اضافہ ہورہا ہے۔سید قمر سجاد نے کہا کہ محکمہ سیاحت موسم بہار کے دوران 5 اور 10 کلومیٹر کی دوڑیں منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ موسم بہار میں وادی میں ٹیولپس اور دیگر پھولوں کی بہار سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور ان دوڑوں کے ذریعے سیاحوں کو قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔ڈائریکٹر ٹورازم نے کہا کہ محکمہ سیاحت اسپورٹس ٹورازم کے دائرہ کار کو وسیع کررہا ہے، جس میں گالف کے کھیل کو دوبارہ فروغ دینے کے ساتھ گلمرگ میں پہلے سے مقبول سرمائی کھیلوں کو مزید مستحکم کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال محکمہ سیاحت کی جانب سے 6 سے 7 کھیلوں کے ٹورنامنٹس منعقد کیے گئے، جن میں پروفیشنل گالف ٹور آف انڈیا کا پانچ روزہ ٹورنامنٹ بھی شامل تھا، جس میں غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ پہلگام میں پہلی مرتبہ جونیئر گالف ٹورنامنٹ منعقد کیا گیا، جبکہ گلمرگ میں ویلی ریس ایونٹ کو بھی دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گلمرگ اور پہلگام میں سات روزہ گالف کورسز منعقد کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمائی کھیل، سنو بورڈنگ اور دیگر ایڈونچر سرگرمیاں بھی سیاحوں کو وادی کی جانب راغب کرنے کے لیے وسیع امکانات رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق کھیل اور سیاحت دو الگ الگ شعبے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔غیر ملکی ایتھلیٹس کی شرکت کے حوالے سے ڈائریکٹر ٹورازم نے کہا کہ بعض یورپی ممالک اور امریکہ کی جانب سے جاری سفری ہدایات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے بین الاقوامی شرکت کو متاثر کیا ہے۔