دھونس، دباو، ہراسانی اور مذہبی نابرابری جمہوری و آئینی اصولوں کے منافی/ڈاکٹر فاروق
سرینگر / این این بی // دھونس و دباو ¿، ہراسانی، خوف و ہراس، ناانصافی اور طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کی آواز دبانے اور انہیں آئینی و جمہوری حقوق سے محروم کرنے کی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں ہے کی بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ملک کا آئین بھی اس قسم کے اقدامات کی اجازت نہیں دیتا۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہندوستان کے آئین اور جمہوری اصولوں کے تحت ہر شہری، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقے سے ہو، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے اور اپنے جائز حقوق کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔ ان حقوق کا احترام کرنا ایک جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی خطے اور شہری کو اس کے مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ جموںوکشمیر کیساتھ بھی سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ پہلے جموں وکشمیر کے عوام کی رائے پوچھے بغیر ہی یہاں کی خصوصی پوزیشن چھینی گئی اور اس تاریخی ریاست کے دو ٹکڑے کئے گئے اور ریاست کا درجہ بھی چھینا گیا۔ جموں و کشمیر کے عوام سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ الیکشن کے فوری بعد ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا لیکن الیکشن کے دو سال گزر جانے کے باوجود بھی اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جو اختیارات ایک یوٹی حکومت کو ہوتے ہیں جموں و کشمیر کے عوامی حکومت کو ان اختیارات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، ایل جی انتظامیہ جمہوری حکومت کے کام میں ٹانگ اڑانے اور روڑے اٹکارنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانی دیتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور مذہبی نابرابری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری و آئینی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر من پسند فیصلے صادر کرنا اور ذاتی یا سیاسی مفادات کی خاطر اختیارات کا استعمال کرنا ملک اور قوم کے مفادات کے منافی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ملک کے اتحاد و یکجہتی کو بھی کمزور کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا سیکولر تشخص اور آئین ہمیشہ دنیا بھر میں ملک کی پہچان اور فخر کا باعث رہے ہیں، لیکن آج ان بنیادی اقدار کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ مذہبی بنیادوں پر نفرت اور امتیازی رویوں کو فروغ دینا، اقلیتوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور ان کے آئینی حقوق کو پامال کرنا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت کی پالیسیوں اور طرزِ عمل سے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جو ملک کے سیکولر اور جمہوری کردار کیلئے باعثِ تشویش ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مذہبی مقامات کی بے حرمتی اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی مقامات کا تقدس ہر حال میں برقرار رکھا جانا چاہئے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ کسی بھی کارروائی میں آئینی ضمانتوں، قانونی طریقہ کار اور انصاف کے اصولوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ طاقت کے استعمال یا یک طرفہ اقدامات کے ذریعے کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا انصاف اور جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے زور دیا کہ ملک کی سالمیت، آزادی، اتحاد اور تعمیر و ترقی کیلئے آئین کی بالادستی، سیکولر اقدار کا تحفظ، قانون کی حکمرانی اور تمام مذاہب و طبقات کے ساتھ یکساں سلوک ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوسکتی ہے جب ہر شہری کے حقوق کا احترام ہو، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور کسی کو بھی مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر خوف و ہراس یا ناانصافی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔










