کچھ طاقتوں نے کمزور ممالک کو قرضے کے جال میں پھنسا کر کیا استحصال

مالیاتی بے ضابطگیوں سے خود کو بچانا ہر ملک کا فرض: وزیر اعظم نریندر مودی

سری نگر//ہندوستان کے جی20 ایجنڈے سے وابستہ اہم مالیاتی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس میں بڑے قرض بحران کا سامنا کرنے والے ممالک کیلئے قرض کی شرائط کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ ہندوستان کی جی 20 صدارت کے دوران ان مسائل پر پیشرفت اور اتفاق رائے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیراعظم مودی نے مالیاتی نظم و ضبط کی اہمیت اور ممالک کو مالی بے ضابطگی سے خود کو بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ’بزنس ٹوڈے ‘میگزین کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم مودی نے چین کے کمزور ممالک کو قرض کے جال میں پھنسا کر ان کا استحصال کرنے کی جانب اشارہ دیا۔چین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کچھ طاقتوں نے دوسرے ممالک میں قرض بحران کا فائدہ اٹھایا ہے۔انہوںنے کہاکہ کچھ طاقتوں نے ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا اور اُنہیں قرض کے جال میں دھکیل دیا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ان کا تبصرہ چین پر تھا جس نے تقریباً ایک درجن ممالک کو اربوں ڈالر کے قرضے دے کر قرضوں کے جال میں دھکیل دیا ہے۔ اس کی وجہ سے مالی بحران کا سامنا کرنے والے ممالک میں کینیا، زیمبیا، لاؤس، منگولیا اور یہاں تک کہ پاکستان بھی شامل ہیں۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ مالی نظم و ضبط سبھی ممالک کے لئے کافی اہم ہے۔ انہوںنے اسبات پر زوردیاکہ مالیاتی بے ضابطگیوں سے خود کو بچانا ہر ملک کا فرض ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسی قوتیں بھی ہیں جو قرضوں کے بحران کو ہوا دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان طاقتوں نے دوسرے ممالک کی بے بسی کا فائدہ اٹھایا اور انہیں قرضوں کے جال میں پھنسا دیا۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ جی20 سال2021 سے ہی کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں قرض کے بحران کو حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ جی 20 یہ مانتا ہے کہ2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ان کی پیشرفت ضروری ہے۔