A 23-year-old girl from Kupwara has achieved success in Creole embroidery

کپواڑہ کی 23 سالہ لڑکی کریول کڑھائی میں کامیابی تک پہنچ گئی

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا:حوصلہ منددوشیزہ رضیہ سلطان

ہندوارہ//شمالی کشمیر ضلع کپواڑہ کے ترہگام سے تعلق رکھنے والی23 سالہ کریول ایمبرائیڈری رضیہ سلطان نے اپنی ایک غریبی کے دھچکے کے بعد اپنی کامیابی کی سیڑھی چڑھ گئی۔جے کے این ایس نمہ نگار طارق راتھر کے مطابق رضیہ کا کہنا ہیکہ جب سال2012 میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس کے کنبے میں ان کی مالی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا اور اس نے اپنے گھر کی ساری زمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ رضیہ نے کچھ وقت تک نزدیکی ایک سنٹر پر کام کیا اور اس کے بعد اس نے اپنا کریول ایمبرائیڈری کا کاروبار شروع کیا۔انہوں نے کہاکہ 2012 میں میرے والد کے انتقال کے بعد ہم کافی بیسہارا ہوگئے تھے کیونکہ ہمارے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں تھا۔ ہم کافی مشکلات سے گزرا کرتے تھے۔ تاہم قسمت نے میرے اور میرے کنبے کے لیے ایک شاندار منصوبہ بنایا تھا۔ رضیہ سلطان نے اپنے سفر کا اشتراک کرتے ہوئے کہا کہ19 سال کی عمر میں، اس نے ہینڈ لوم اور دستکاری کے ایک مقامی یونٹ میں تربیت شروع کی۔ اور تربیتی مرکز میں کچھ وقت گزارنے کے بعد رضیہ کو محکمہ کی طرف سے ایک ریاستی ایوارڈ سے نوازا گیا، جس نے کریول ایمبروڈیری کے لیے میرے جوش کو بڑھایا انہوں نے مزید کہااس ایوارڈ نے اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیا۔ اس نے کریول ایمبرائیڈری کو بطور اپنا پیشہ اختیار کیا۔ یونٹ سے فن سیکھنے کے بعد رضیہ سلطان اب آس پاس کی دوسری لڑکیوں کو بھی سکھا رہی ہیں۔ اس نے اپنا ایک سیکھنے کا مرکز قائم کیا ہے جہاں وہ اب تک اپنے علاقے کی200 سے زائد لڑکیوں کو تربیت دے چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ایسا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کر رہی ہوں کہ دوسری لڑکیاں اپنی زندگی آزادی سے گزاریں۔اس نے دعویٰ کیا کہ بہت سی لڑکیاں اور خواتین دستکاری کے لیے اس کے پاس آتی ہیں۔ رضیہ نے اپنے کاروباری منصوبے کے قیام کے دوران مشکلات کا اپنا حصہ لیا تھا۔ ابتدائی سال اس کے لیے مشکل تھے۔ گارہکوں کو قائل کرنا اور انہیں اس کی مصنوعات خریدنے پر مجبور کرنا اسکے لئے ایک چیلنج تھا۔ اس کی جیب میں پیسے نہ ہونے اور آس پاس کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کے باعث اس نے سب کچھ سہ لیا اور اب ایک آزاد زندگی گزار رہی ہے۔ نہ صرف رضیہ سلطان بلکہ اب اس کی بہن آسیہ جو گریجویٹ ہے، بھی ان سے فن سیکھ رہی ہے۔ آسیہ نے بتایا کہ اس کی بہن ماہانہ60 سے70 ہزار کا کاروبار کرتی ہے۔ 23 سالہ نوجوان خود کفیل ہونے پر یقین رکھتا تھی اور اس نے مشورہ دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کو آگے آنا چاہیے اور بیک وقت روزگار اور منافع پیدا کرنے کے لیے اپنے منصوبے شروع کرنا چاہیے۔ اپنے مرکز میں اس کا مقصد ان خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنا ہے