تاریخی و آثار قدیمہ ،تعمیراتی و روحانی ورثے کی دستاویز بندی مکمل / سرکار
سرینگر//یواین ایس / جموں و کشمیر حکومت نے کپواڑہ ضلع میں 102 تاریخی، آثار قدیمہ، تعمیراتی اور روحانی ورثے سے وابستہ مقامات کا سروے اور دستاویز بندی مکمل کی ہے، جبکہ ان میں سے 16 مقامات کو تحفظ اور بحالی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔محکمہ ثقافت نے یہ معلومات لنگیٹ کے رکن اسمبلی خورشید احمد شیخ کے اسمبلی میں پوچھے گئے غیر ستارہ سوال کے جواب میں فراہم کیں۔ سوال میں کپواڑہ ضلع میں تاریخی اور روحانی ورثے کے تحفظ، بحالی اور دستاویز بندی سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔محکمہ کے مطابق سروے کیے گئے اہم مقامات میں ماؤر کے شاہ نگری علاقے میں واقع تقریباً 700 سال پرانی زیر زمین خانقاہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یارو میں حضرت ارنا صائب کی زیارت، کنڈی میں سدا گنگا استھاپن، وہی پورہ میں حضرت حاجی بہرام کی زیارت اور ہری میں قادِر صائب کرلات سے منسوب تاریخی لکڑی کی مسجد بھی سروے کا حصہ ہیں۔حکومت نے بتایا کہ کپواڑہ ضلع میں گیان بھارتَم پروگرام کے تحت 461 قدیم قلمی نسخوں کا بھی سروے کیا گیا ہے۔ ان میں گمریال سے تعلق رکھنے والے فارسی زبان کے 40 قدیم ہاتھ سے لکھے گئے قلمی نسخے بھی شامل ہیں۔تاہم حکومت نے واضح کیا کہ گزشتہ چار برس کے دوران کپواڑہ ضلع میں موجود کسی بھی تاریخی مقام کو جموں و کشمیر قدیم یادگاروں کے تحفظ کے ایکٹ 1977 کے تحت ریاستی محفوظ یادگار یا محفوظ مقام قرار نہیں دیا گیا ہے۔محکمہ ثقافت کے مطابق 16 تاریخی مقامات کو بحالی اور تحفظ کے لیے شناخت کیا گیا ہے اور دستیاب وسائل اور بجٹ کے مطابق ان مقامات پر مرحلہ وار کام کیا جا رہا ہے۔حکومت نے بتایا کہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک مقررہ مدت پر مبنی پروگرام تشکیل دینے کی سمت میں بھی اقدامات جاری ہیں۔ اس مقصد کے لیے تاریخی، تعمیراتی اور دیگر ورثے سے متعلق معلومات کو منظم انداز میں جمع، دستاویز بند اور مرتب کیا جا رہا ہے۔حکومت کے مطابق سائنسی بنیادوں پر تاریخی مقامات کے تحفظ، بحالی اور مرمت کے لیے ماہرین کی تکنیکی معاونت حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اونتی پورہ کے اسکول آف آرکیٹیکچر، پلاننگ اینڈ جیومیٹکس اور شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی، کٹرا کے اسکول آف آرکیٹیکچر اینڈ لینڈ اسکیپ ڈیزائن کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے کا عمل جاری ہے۔حکومت نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر میں فن تعمیر اور تاریخی ورثے کی بحالی، مرمت، تحفظ اور نگہداشت کی اسکیم کے تحت مختلف مقامات کو مرحلہ وار شامل کیا جا رہا ہے۔ان مقامات کا انتخاب مقررہ کمیٹیوں کی سفارشات اور منظوری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جبکہ منصوبوں پر عمل درآمد منظور شدہ بجٹ اور دستیاب مالی وسائل سے مشروط ہے۔










