کوروناوائرس کے مثبت کیسز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ،گھبرانے کی ضرورت نہیں ،احتیاط لازمی

کوروناوائرس کے مثبت کیسز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ،گھبرانے کی ضرورت نہیں ،احتیاط لازمی

سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کورونا وائرس کے اثرات اور تیزی سے پھیلا ئو کے بارے میں کسی کو انکار نہیں ہے البتہ بالخصوص وادی کشمیر میں موسمی تبدیلی کے نتیجے میں کچھ بیماریاں پہلے سے ہی یہاں پنپتی رہتی ہیں جن میں نزلہ زکام ،کھانسی ،بخار وغیرہ شامل ہیں ۔اس کے بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ لوگ اپنے بند اور گرم کمروں سے جب باہر آتے ہیں تو منفی درجہ حرارت سے ان کے شریر پرسردی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کے جس میں نئی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اس تبدیلی سے زکام ،کھانسی یا بخار کی بیماریوں میں مبتلا ہونا فطرت کاخاصا ہے اور یہ بیماریاں بھی وائرس کی مانند ہیں کیونکہ لگنے اور پھیلنے والی بیماریاں ہیں ۔یہ ایک مریض سے دوسر ے تک بغیر کسی تاخیر کے منتقل ہوجاتی ہیں ۔چونکہ اب کوروناوائرس کا پھیلا ئو جاری ہے اور اس وائرس سے اب تک ہزاروں لوگوںکی جانیں تلف ہوئیں اور آج بھی کوروناوائرس کے مثبت کیسز میں یومیہ طور بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے لیکن جتنے لوگ اس وائرس میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان میں اکثر مریض انٹی بیاٹک لینے کے بعد شفایاب ہوجاتے ہیں ۔اس لئے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ گھروں میں دیسی یا گھریلو علاج کرنے کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم روایتی بیماریوں میں مبتلا ہو کر کورونا وائرس جیسی مہلک وباہ سے نجات حاصل کرسکیں گے ۔ماہرین کے مطابق نیم گرم پانی ،قوہ وغیرہ کا استعمال اور تر وسرد خصلت رکھنے والی ترکاریوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے اور یہ طریقہ کار نقصان دہ بھی نہیں ہے اور اس سے قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے ۔ ادویات لینے میں کشمیری لوگ کافی عادی ہوچکے ہیں اور اس طرح کی وئرل بیماریوں کے علاج کے دوران مریض کو ہائی ڈوز لینے کی ضرورت پڑتی ہے ۔اب چونکہ یہ عادت لگ چکی ہے ۔اس لئے بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے مشورہ لینے کے بعد دوائی لی جائے تاکہ سائیڈ ایفکٹ سے بچ جائیں جو جان لیوا ہو ۔اس پر ماہرین کا بھی اتفاق ہے اور ان کی تحقیق کے مطابق اینٹی بیاٹک لینے سے زندگی کا ایک دن کم ہوجاتا ہے یہ اگر ایک مرض کاافاقہ کرنے میں کار آمد ثابت ہوتا ہے لیکن اس سے دس امراض جنم لیتے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں کھانسی یا نزلہ یا بخار کی بیماریوں یا خدانخواستہ کوروناوائرس کے مرض میں مبتلا مریض گھروں میں بیٹھ کر ڈھنگ سے تسلسل کے ساتھ علاج کرسکتے ہیں اور بغیر کسی نقصان کے ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں اور کسی بھی صورت میں بیمار کو یہ تصور نہیں دینا کہ وہ خطرناک وائرس میں مبتلا ہے بلکہ اس کو دلاسہ دینے کی ضرورت ہے ۔موجودہ سنگین صورتحال کے بیچ بھی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ احتیاط لازمی ہے اور ہمت وحوصلہ رکھنا ہوگا تاکہ موجودہ حالات کا بہ آسانی مقابلہ کیا جاسکے اور اس بیماری کا مکمل خاتمہ بھی ہوجائے گا ۔