پلوامہ//کمشنرسیکرٹری ریونیو وِجے کمار بدھوری نے ضلع پلوامہ سے متعلق ریونیو معاملات کاتفصیلی جائزہ لینے کے لئے ٹائون ہال ترال میں ضلع کے سینئر ریونیو اَفسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی۔اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری ریونیو نے حکومت کے حالیہ اَقدامات جیسے لینڈ ریکارڈز اِنفارمیشن سسٹم ( اَپنی زمین اَپنی نگرانی) ، گائوں آبادی کا سروے اور دیہی علاقوں میں امپر ووائز ڈ ٹیکنالوجی سے نقشہ سازی ( ایس وِی اے ایم آئی ٹی وِی اے ) ،ڈیجیٹل اِنڈیا لینڈ ریکارڈزماڈرنائزیشن پروگرام ( ڈی آئی ایل آر ایم ) کا تفصیلی جائزہ لیا۔کمشنرسیکرٹری ریونیو وِجے کمار بدھوری نے تجاوزات کی مہم ، سرکاری اَراضی کی حد بندی ، اِنتقال کی صورتحال ، ریونیو ریکارڈ کی جانچ ، شکایتی اَزالے نظام کی صورتحال ، مائیگرنٹ پراپر ٹیز ، کیمپوں کے اِنعقاد اور میوٹیشنز کی تصدیق ، ڈیجیٹائزیشن سے متعلق مختلف اہم اَمور کی پیش رفت، جمعبندیاں اور گرداوری ، گمشد ہ لینڈ ریکارڈ ، پٹوار خانہ کی صورتحال ، آر ڈی اے اَنکوائری کی صورتحال، خالی جگہ اور ڈی پی سی کا اِنعقاد کا جائز ہ لیا۔اُنہوں نے پلوامہ اِنتظامیہ کی جانب سے مختلف عوامی مرکز کے اَقدامات کرنے اور سینکڑوں کنال سٹیٹ اَراضی کو واگذار کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر اِنسداد تجاوزات مہم شروع کرنے پر سراہا۔ اُنہوں نے ضلع میں مختلف سکیموں کے تحت آئی اِی سی سرگرمیوں کو مؤثر طریقے سے عملانے اور تمام ریونیو ریکارڈ مؤثر طریقے سے رکھنے کے اِنتظام پر زور دیا۔ ضلع ترقیاتی کمشنرپلوامہ بصیر الحق چودھری نے چیئرمین کو ضلع کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے کام کاج اور حصولیابیوں کے بارے میں جانکاری دی۔ اُنہوں نے بتایا کہ تقریبا ً 40 فیصد ریکارڈ ( جمعبندیوں ) کو ڈیجیٹائزکیا جاچکا ہے اور سکیننگ سینٹروں میں مزید اَفرادی قوت اور لاجسٹکس کی تعیناتی کے عمل کو تیز کیا جارہا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ4,59,255 خسروں میں سے 1,69,229خسروں کو ڈیجیٹائز کیا جاچکا ہے ۔ اِس کے علاوہ 88,539خسروں اور 2,28,518 خسروں میں سے بالترتیب 40,935 اور 82,461 کو پہلے ہی ڈیجیٹائز کیا جاچکا ہے۔میٹنگ میں ایس ایس پی اونتی پورہ محمد یوسف ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ترال ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اونتی پورہ ، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ، تمام تحصیل دار اور دیگر ریونیو اَفسران موجود تھے۔










