کشمیری نوجوان کے یوکرین کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کا معاملہ

پلوامہ کے انجینئر کے اہلخانہ سے سی بی آئی نے بیانات قلمبند کروائے

سرینگر/ //پلوامہ کے نوجوان کو انسانی سمگلروںنے روسی فوج کو سونپ کر اس کو زبردستی جنگ میں دھکیل دیاتھا جو وہاں گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں تحقیقات شروع کرتے ہوئے ہندوستانی لوگوں کی روس سمگلنگ کے معاملے میںتحقیقات شروع کی تھی جبکہ پلوامہ کے نوجوان جو کہ ایک انجینئر ہے کے اہلخانہ کے بیانات قلمبند کرائے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق 8 مارچ کو، سی بی آئی نے انسانی اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا تھا جس نے ہندوستانی لوگوں کو جنگ کے علاقے میں پھنسایا تھا۔ اس میں روس میں مقیم ایجنٹوں سمیت اہم سہولت کاروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے کشمیری شخص آزاد یوسف کمار کے اہل خانہ کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔ لواحقین کا الزام ہے کہ یوسف کو غیر دانستہ طور پر روس یوکرین تنازعہ میں دھکیل دیا گیا۔ایجنسی نے حال ہی میں 19 افراد اور ویزا کنسلٹنسی فرموں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں اور ان کے خلاف بھارتی نوجوانوں کے استحصال سے منسلک ایف آئی آر درج کی ہے۔یوسف کے بڑے بھائی سجاد احمد کمار نے کہا کہ سی بی آئی نے ان سے ان کے بھائی کی حالت کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور اس کی نئی دہلی دفتر میں موجودگی کا مطالبہ کیا۔ تاہم، وہ موجودہ مالی حالات کی وجہ سے تعمیل کرنے سے قاصر ہے۔سجاد نے کہا کہ 12 دیگر متاثرہ ہندوستانی مردوں کے اہل خانہ سے سی بی آئی نے رابطہ کیا ہے اور اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کی اپیل کی ہے۔8 مارچ کو، سی بی آئی نے انسانی اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا تھا جس نے ہندوستانی لوگوں کو جنگ کے علاقے میں پھنسایا تھا۔ اس میں روس میں مقیم ایجنٹوں سمیت اہم سہولت کاروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان ایجنٹوں نے ہندوستانی نوجوانوں کو روس میں منافع بخش نوکریوں کی پیشکش کی، تاکہ بعد میں انہیں روس-یوکرین تنازعہ میں فوجی شرکت پر مجبور کیا جا سکے۔پلوامہ سے انجینئرنگ کے 31 سالہ گریجویٹ یوسف نے شروع میں دبئی میں ملازمت کے مواقع تلاش کیے لیکن جھوٹے وعدوں سے اسے گمراہ کیا گیا۔ آخرکار وہ خود کو روسی فوج کے کرائے کے سپاہی کے طور پر جنگ میں پھنسا ہوا پاتا ہے۔اس کے اہل خانہ نے یوکرین کی سرحد پر اس کی خطرناک صورتحال کی وضاحت کی اور حکومت سے اس کی بحفاظت واپسی کے لیے مداخلت کی درخواست کی۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ وہ یوٹیوبر فیصل خان کے لالچ میں گزشتہ سال 14 دسمبر کو اچھی ملازمت کی تلاش میں دبئی گیا تھا۔ لیکن اس نوجوان کو کیسے معلوم تھا کہ وہ جنگ میں شامل ہو جائے گا۔سجاد نے کہا، ‘یوسف اس وقت یوکرین کی سرحد پر ہے۔ ہم نے کچھ دن پہلے اس سے بات کی اور اس نے ہمیں بتایا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔ اسے ایک معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جو روسی زبان میں تھا اور اس طرح وہ وہاں پہنچا۔’اس نے بتایا کہ یوسف شام کو دو سے تین منٹ کے لیے گھر والوں کو فون کرتا ہے۔ اس نے اپنے بھائی کے حوالے سے کہا، ‘وہ اب جنگلوں میں بنکر بنا رہے ہیں۔ وہ بحیرہ اسود سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ وہ علاقوں پر قبضہ کرتے ہیں اور پھر وہاں بنکر بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یوسف کو 15 دن کی فوجی تربیت دی گئی، جس کے دوران وہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور انہیں دو ہفتے تک ہسپتال میں داخل رہنا پڑا۔ اس کا ایک ڈھائی ماہ کا بیٹا ہے جس سے وہ ابھی تک نہیں ملا۔سجاد نے کہا کہ انہیں ایجنٹوں نے بتایا کہ یوسف کو کچن ہیلپر کی نوکری دی جائے گی لیکن اسے روسی فوج کے ساتھ جنگ میں لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔