محکمہ لائبریریز نے نایاب علمی ذخائر کی نمائش اور کتاب پڑھنے کو فروغ دینے کیلئےسلسلہ وار تقریبات کا اِنعقاد کیا
سری نگر//محکمہ لائبریریز اینڈ ریسرچ نے ’کتاب اور کاپی رائٹ کے عالمی دِن 2025 ‘کی مناسبت سے کشمیر کے مختلف حصوں میں ایک سلسلہ تقریبات کا اِنعقاد کیا۔ ’کتاب اور کاپی رائٹ کے عالمی دِن‘ کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر پرنسپل سیکرٹری محکمہ کلچر کی پہل پر آج تین بند لائبریریوں کو بھی آج فعال بنایا گیا۔ اِن لائبریریوں میں خانیار سری نگر، خانصاحب بدگام اور بارڈر بلاک لائبریری ولیگام کپوارہ شامل ہیں۔ ’کتاب اور کاپی رائٹ کے عالمی دِن‘ ہر برس23 ؍اپریل کو منایا جاتا ہے تاکہ پڑھنے اور لکھنے کی محبت کو فروغ دیا جاسکے ۔ اِشاعت کی طاقت، مطالعہ کو سب کے لئے قابل رَسائی بنانا اور کاپی رائٹ قوانین کے ذریعے دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا جائے۔ یہ دِن کتابوں اور اَدب کی ذہنوں کی تشکیل، لوگوں کو متحد کرنے اور سماجی تبدیلی کی تحریک دینے میں اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔یونیسکو کی جانب سے 1995 ء میں اِس دن کا اعلان کیا گیا تھاجو کہ اَدبی شخصیات جیسے ولیم شیکسپیئر، میگوئل ڈی سروانٹس اور انکا گارسیلاسوڈی لا ویگا کی وفات کی یاد میں منایا جاتا ہے جو سب 23 ؍اپریل کو وفات پا گئے تھے۔اِس برس ’کتاب اور کاپی رائٹ کے عالمی دِن‘ کا موضوع ’’دیرپا ترقیاتی اہداف ( ایس ڈِی جیز)کے حصول میں اَدب کا کردار ‘‘ہے جوایس ڈی جیزکی طرف پیش رفت کو آگے بڑھانے میں اَدب کے اہم کردار کو اُجاگر کرتا ہے۔ اِس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کس طرح اَدب غربت، بھوک، عدم مساوات اور بہت کچھ جیسے اہم عالمی مسائل میں کارروائی اور بیداری کی ترغیب دے سکتا ہے۔اِس دن کو منانے کے لئے آج کی مرکزی تقریب ایس پی ایس سینٹرل لائبریری کمپلیکس میں منعقد کی گئی جس میں خصوصی ادبی مجموعوں کی نمائش کی گئی جن میں مخطوطات، نایاب کتابیں اور چھوٹی پینٹنگز شامل تھیں۔نمائش کی اہم ترین چیزوں میں تاریخی مخطوطات جیسے قرابائی دین، سدھ پند لقمان اور شاہنامہ فردوس شامل تھیں۔ نمائش میںکچھ نایاب کتابوں میں مہابھارت اور رامائن، راج ترنگنی (کلہن کی تصنیف)، تاریخ رشیدی، گزیٹیئر آف اِنڈیا اور کشمیر کی تاریخ بھی نمائش کے لئے رکھی گئی تھیں۔اِس موقعہ پراسسٹنٹ ڈائریکٹر او آر ایل سری نگر عشرت مجید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اورینٹل ریسرچ لائبریری سری نگر جو 1904 ء میں قائم کی گئی تھی،مختلف شعبوں پر مشتمل 17 زبانوں میں تقریباً 6,000 نایاب اور نادر مخطوطات کا ذخیرہ ہے۔ اِس لائبریری میں 500 نایاب کتابیں اور چھوٹی پینٹنگز بھی موجود ہیں۔
عشرت مجیدنے کہا کہ اورینٹل ریسرچ لائبریری کا مخطوطات کا مجموعہ مذہبی، فلسفیانہ، تاریخی، اَدبی اور سائنسی تحریروں کا خزانہ ہے جو فارسی، سنسکرت، ہندی، اُردو، ترکی، برج بھاشا اور عربی جیسے کلاسیکی زبانوں میں ہے۔ اِن زبانوں نے کشمیری زبان پر گہرا اثر ڈالا ہے اور اِس کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سنسکرت، جو نویں اور دسویں صدی کے آغاز میں کشمیر کی دربار اور ثقافت کی زبان تھی، نے متعدد مذہبی، جمالیاتی اور شعری آثار تخلیق کئے ہیں جو اورینٹل ریسرچ لائبریری میں محفوظ ہیں۔عشرت مجید نے کہا کہ ایسی نمائشیں ہماری نوجوان نسل کو جموں و کشمیر کی ثقافت، روایات، ورثے اور تاریخ کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔اِس نمائش میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔’کتاب اور کاپی رائٹ کے عالمی دن ‘کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر کشمیر بھر کی ضلعی اور تحصیل لائبریریوں میں کتابوں کی نمائشوں اور دیگر سرگرمیوں کا اِنعقاد کیا گیا ۔محکمہ لائبریریز نے گزشتہ کچھ برسوںمیں خصوصی طور پر ایسے حوالہ کتابوں کا انتخاب کیا ہے جوآئی اے ایس ، کے اے ایس ، این اِی اِی ٹی، جے اِی اِی اور دیگر مقابلہ جاتی اِمتحانات کی تیاری کرنے والے طلبأکے لئے مفید ہوں تاکہ کتابوں کی خریداری کے لئے مختص وسائل کا مفید اِستعمال کیا جا سکے جس کے نتیجے میں عوامی لائبریریوں میں نوجوانوں کی آمد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔










