نوجوانوں کو بدنام کرنے کے بجائے اپنی ناکامی تسلیم کرے/ نائب وزیر اعلیٰ
سرینگر / این این بی // عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ میں توسیع پہلے ہی عوام سے کیا گیا وعدہ تھا، جسے اب پورا کر دیا گیا ہے کی بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے کہا ہے کہ کابینہ میں توسیع کے بعد حکومت کی کارکردگی، عوامی خدمات کی فراہمی اور جوابدہی میں مزید بہتری آئے گی۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی کے مطابق سرینگر کے لوک بھون آڈیٹوریم میں نئی کابینہ کے ارکان کی حلف برداری کی تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے کہا کہ حکومت نے عوام سے کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کا وعدہ کیا تھا اور اب اس وعدے کو پورا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کیا جائے گا، اور اب یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بی جے پی کے رہنماو ¿ں یا حزبِ اختلاف کے لیڈر سے سوالات کیے جانے چاہئیں کہ وہ عوامی مسائل پر کیا موقف رکھتے ہیں، نہ کہ بار بار کابینہ میں توسیع کے معاملے کو ہی موضوعِ بحث بنایا جائے۔چودھری نے کہا کہ کابینہ میں سینئر رہنماو ¿ں علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی کی شمولیت سے حکومت کی کارکردگی مزید مضبوط ہوگی اور عوام کے تئیں جوابدہی میں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق، حکومت کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کے عوام کو بہتر حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے ذریعے فائدہ پہنچانا ہے، اور اسی مقصد کے تحت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب توجہ کابینہ میں توسیع کے بجائے حکومت کے کام کاج اور عوام کو حاصل ہونے والے فوائد پر مرکوز ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔بی جے پی کی جانب سے کابینہ میں توسیع کو غیر اہم قرار دیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے بی جے پی مسلسل کابینہ میں توسیع کا مطالبہ یا اس معاملے پر تنقید کرتی رہی ہے، لیکن اب جب توسیع عمل میں آچکی ہے تو اس کا ایک بڑا سیاسی مسئلہ ختم ہوگیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے اور وہ لوگوں کو گمراہ کرنے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق، کابینہ میں توسیع کے بعد اب حزبِ اختلاف کو حکومت کے کام کاج پر بات کرنی چاہیے اور عوامی مفادات سے متعلق حقیقی مسائل کو اٹھانا چاہیے۔نائب وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ وہ حزبِ اختلاف کے لیڈر سنیل شرما سے اس بارے میں سوال کریں کہ جموں و کشمیر کے باشندوں، خصوصاً کشمیریوں، کو ملک کی مختلف ریاستوں میں مبینہ طور پر نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب جموں و کشمیر کے لوگ روزگار اور روزی روٹی کمانے کے لیے دیگر ریاستوں کا رخ کرتے ہیں تو بعض اوقات انہیں تشدد اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام اپنی محنت کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے بیرونِ ریاست جاتے ہیں، لیکن اگر انہیں وہاں تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو اس سے نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ پورے جموں و کشمیر کے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر کے باشندے اپنی مہمان نوازی اور خوش اخلاقی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ڈرائیوروں، شال فروخت کرنے والوں اور پھل فروشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تشدد یا امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جموں و کشمیر کے کسی شہری کو ملک کی کسی دوسری ریاست میں تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کیا بی جے پی کے رہنما اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے بی جے پی قیادت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور متاثرہ افراد کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کا معاملہ اب مکمل ہوچکا ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس بحث سے آگے بڑھیں اور ان مسائل پر توجہ دیں جو عام لوگوں کی زندگیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔










