بیجنگ/ایجنسیز// چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے اور متعلقہ ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے نومبر کے اوائل اور وسط میں اپنا خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ ڑائی جون کو ایران، عمان اور سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پیر کو بتایا کہ ان دوروں کا مقصد متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ بڑھانا، مذاکرات اور بات چیت کو فروغ دینا اور خطے میں کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ماؤ ننگ نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں جاری تنازعات پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ چین کی کوشش ہے کہ اختلافات کو فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ ڑائی جون ایران، عمان اور سعودی عرب کے دوروں کے دوران ان ممالک کے متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور علاقائی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید بتایا کہ نومبر میں افریقی ممالک کے لیے بھی خصوصی سفارتی دوروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چین کے خصوصی نمائندے برائے افریقی امور لیو شیانفا نومبر کے اوائل اور وسط میں ایتھوپیا، جبوتی اور مصر کا دورہ کریں گے، جبکہ افریقہ کے قرنِ افریقہ سے متعلق امور کے خصوصی ایلچی ہو چانگ چون نومبر کے آغاز میں اریٹیریا جائیں گے۔ان دوروں کا مقصد چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ امن و سلامتی سے متعلق تجاویز کو آگے بڑھاناہے۔










