اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے احیاء کیلئے چین اور عمان متحرک

اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے احیاء کیلئے چین اور عمان متحرک

بیجنگ ؍ عمان/ایجنسیز// ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی دوبارہ شروعات کے خدشات کے بیچ، چین اور سلطنت عمان نے پیر کو اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ امریکہ اور ایران کو پْر امن راستے اختیار کرنے، اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی طرف لوٹنے اور دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کی بحالی کیلئے قائل کرنے کی کوششیں کریں گے۔یہ پیشرفت چینی صدر ژی جن پنگ اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے درمیان بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آئی، سلطان چین کے دو روزہ سرکاری دورہ پر ہیں۔ بیجنگ اور مسقط نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول کے مطابق اور محفوظ طریقے سے بحال کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون مضبوط کرنے اور شمسی توانائی، ہوائی توانائی اور توانائی کی ذخیرہ اندوزی سمیت نئے توانائی کے شعبہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔چینی صدر نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطہ کو بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے اور جیو پولیٹیکل تنازعات کا میدان نہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک عرب ممالک کے ساتھ تعاون اور رابطہ کاری مضبوط کرنے کیلئے تیار ہے تاکہ خطہ میں جلد از جلد امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔ دوسری جانب بیجنگ میں چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سکریٹری علی باقری سے ملاقات کے دوران زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا جاری رہنا اور اس کے پھیلاؤ کے اثرات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ گفتگو اور مذاکرات ہی اس بحران کے حل کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے فوجی تصادم کی طرف لوٹنے کے بجائے عقل مندانہ اور عملی جذبے کے ساتھ سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا۔ علی باقری نے کہا کہ تہران اپنی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا عزم رکھتا ہے اور ساتھ ہی مختلف فریقوں کے ساتھ مذاکرات اور علاقائی امن کیلئے متحرک کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل میں بھی منگل کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات کے بعد امریکی حملوں کے امکان کے پیش نظر سکیورٹی اور عسکری تیاریوں کی سطح کو بلند ترین درجے پر کر دیا گیا ہے۔اس کے مقابلے میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی نئی عسکری جھڑپ کی مدت پچھلی جنگ سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے اور واشنگٹن اس کے خاتمے کا وقت طے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔