ایرانی ٹی وی کا شہریوں کیلئے انتباہی پیغام جاری

ایرانی ٹی وی کا شہریوں کیلئے انتباہی پیغام جاری

تہران/ایجنسیز//ایرانی قومی ٹیلی ویژن نے ممکنہ ایٹمی حملہ سے نمٹنے کیلئے شہریوں کیلئے ایک ہنگامی انتباہی پیغام جاری کیا ہے، جس میں درج ذیل ہدایات دی گئی ہیںاول: شدید دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیز روشنی کی طرف ہرگز نہ دیکھیں، کسی آڑ کے پیچھے پناہ لیں، زمین پر سیدھے لیٹ جائیں اور اپنے سر اور چہرے کو اچھی طرح ڈھانپ لیں۔ دوم: دھماکے کی ابتدائی لہر گزرنے کے بعد فوری طور پر قریب ترین عمارت کے اندر داخل ہو جائیں، نظارہ کرنے یا تصویر کشی کیلئے باہر نہ رکیں، گاڑی کے اندر پناہ نہ لیں، اور کھڑکیوں و بیرونی دیواروں سے دور رہیں۔سوم: نیم گرم پانی اور صابن سے غسل کریں اور بغیر کنڈیشنر کا عام شیمپو استعمال کریں، اگر غسل ممکن نہ ہو تو اپنے چہرے، ہاتھوں اور کھلی جلد کو پانی یا گیلی ٹشوز سے صاف کریں۔چہارم: صرف بند بوتل کا پانی اور پیک شدہ خوراک استعمال کریں، اور کم از کم 24 گھنٹوں کیلئے پناہ گاہ کے اندر رہنے کی تیاری رکھیں، اگر عمارت میں آگ بھڑک اٹھے یا اس کے گرنے کا خدشہ ہو تو فوری طور پر کسی زیادہ محفوظ پناہ گاہ میں منتقل ہوجائیں۔ پنجم: 24 گھنٹے گزرنے کے بعد خود سے یہ فرض نہ کر لیں کہ ماحول محفوظ ہو چکا ہے، باہر نکلنے کے محفوظ راستے کی معلومات کیلئے سرکاری اعلانات اور ہنگامی حالات سے متعلق بیانات کی پیروی کریں۔یہ انتباہی ہدایات ایران پر ممکنہ امریکی ایٹمی حملہ سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے ہنگام میں جاری کی گئی ہیں۔معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہیکہ ٹرمپ کی انتظامیہ، اسرائیلی وزیراعظم بنجامین نتن یاہو کے دباؤ میں آ کر اگلے چند دنوں میں کسی ایرانی ایٹمی سائٹ پر حملہ کر سکتی ہے۔کارلسن نے پیر کو ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ نتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ انتظامیہ چند دنوں میں ایران پر ایٹمی حملہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس حملہ کا ممکنہ ہدف جبل الفیس ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ تہران نے وہاں یورینیم کی افزودگی پروگرام دوبارہ شروع کر رکھا ہے۔صدر ٹرمپ کے سب سے بڑے حامی رہنے والے اس امریکی صحافی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس سائٹ کے دفاعی حصار کو توڑنے کیلئے کوئی عام ہتھیار کافی نہیں ہے جس کی گہرائی تقریباً 100 میٹر تک پہنچتی ہے۔یہی چیز ایٹمی حملہ کو واحد اختیار بناتی ہے۔ دوسری طرف بعض ماہرین نے اس طرح کے کسی بھی فیصلے کو پاگل پن قرار دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اور ایرانی امور کے ماہر ولی نصر نے لکھا کہ اگر یہ خبر سچی ہے تو یہ امریکی انتظامیہ کیلئے شدید مذمت کا مقام ہے۔ اس لیے نہیں کہ امریکہ اس طرح کی دیوانگی پر غور کر سکتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایسا کسی دوسرے ملک کے دباؤ میں آ کر کرے گا۔