آغا روح اللہ کا نیشنل کانفرنس سے علیحدگی کا اعلان

آغا روح اللہ کا نیشنل کانفرنس سے علیحدگی کا اعلان

سری نگر کے رکن پارلیمان کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ

سرینگر// یو این ایس / نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سری نگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کے روز نیشنل کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرنے اور لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر الزام عائد کیا کہ اس نے جموں و کشمیر کے عوام سے انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔آغا روح اللہ نے یہ اعلان بڈگام کے بہشتِ زہرا پارک میں اپنے والد آغا سید مہدی کی برسی کے موقع پر منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے 2024 کے انتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے، انہیں پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ ان کا اختلاف بنیادی سیاسی اصولوں اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل سے متعلق ہے۔ ان معاملات میں دفعہ 370 کی بحالی، آئینی تحفظات، ریزرویشن سے متعلق مسائل اور قیدیوں کی رہائی جیسے اہم امور شامل ہیں۔اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ ان کا یہ قدم کسی ذاتی ناراضگی یا سیاسی و وزارتی عہدہ نہ ملنے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ عوام کے سامنے جن اصولوں اور مسائل کی وکالت کرتے رہے ہیں، ان پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا سیاسی مقصد صرف نیشنل کانفرنس چھوڑنا یا کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونا نہیں ہے، بلکہ وہ جموں و کشمیر کے مخلص، دیانت دار اور باصلاحیت نوجوانوں کو ایک وسیع پلیٹ فارم پر متحد کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ اپنے وطن اور عوام کے مستقبل کے لیے مشترکہ طور پر کام کرسکیں۔آغا روح اللہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوششوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو دیانت داری، لگن اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خواب ایسے ہم خیال نوجوانوں کا ایک پلیٹ فارم قائم کرنا ہے جو جموں و کشمیر کی فلاح و بہبود، عزت و وقار اور بہتر مستقبل کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔ادھر سری نگر کی پارلیمانی نشست اس وقت تک خالی نہیں ہوگی جب تک لوک سبھا کے اسپیکر آغا روح اللہ کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور نہیں کرتے۔ اس کے بعد ضرورت پڑنے پر متعلقہ قانونی ضابطوں کے تحت ضمنی انتخاب کرایا جائے گا۔