جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے بھیڑ و پشو پالن اور ماہی پروری محکموں کے کام کاج اور اِس شعبے میں بڑی سکیموں کے تحت حصولیابیوں کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری بھیڑ و پشو پالن اور ماہی پروری محکمے،متعلقہ ڈائریکٹران اور محکمہ کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔دوران ِ میٹنگ ڈیری ، پولٹری سمیٹ مختلف شعبوں اور محکمہ سے متعلقہ سکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ کو بتایا گیا کہ جموںوکشمیر یوٹی نے مالی سال 2020-21 ء کے دوران دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے اور کل 2594.49ہزار میٹرک ٹن دودھ ،88.94ہزار میٹرک ٹن گوشت اور 1743.30ہزار میٹرک ٹن انڈے کی پیداوار حاصل کی ہے۔میٹنگ میں کہا گیا ہے کہ مقامی مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اِس وقت گوشت، مرغی اور انڈوں کی بڑے پیمانے پر در آمد کی ضرورت ہے اور اس لئے چیف سیکرٹری نے محکمہ سے کہا کہ وہ مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لئے مزید راہیں تلاش کرے۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کہا کہ اگلے تین برسوں میں تقریباً 1,500 کروڑ روپے کی حد تک یوٹی میں آمدنی اور روزی روٹی کو مزید بڑھانے کی بہٹ بڑی صلاحیت موجود ہے۔چیف سیکرٹری نے مزید کہاکہ سیب ، نقد فصلوں ، پولٹری ، چارہ اور گوشت کی معیاری پیداوار کو بڑھانے کے لئے مشترکہ اقدامات سے درمیانی مدت میںمعیشت میںتقریباً 5,000 کروڑ روپے کا اِضافہ کرنے کی صلاحیت ہے۔اِنٹگریٹیڈ ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت تقریباً 2,000لوگ 1,000نئے یونٹوں میں مصروف تھے اور یہ تعداد 6,000تک جانے کی اُمید ہے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ مویشیوں میں پاؤں اور منہ کی بیماری (ایف ایم ڈی) اور بروسیلوسس جیسی بیماریوں پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت، محکمہ نیشنل اینمل ڈیزیز کنٹرول پروگرام ( این اے ڈی سی پی۔II) کے تحت ایک مشن موڈ میں تمام پشوئوں کو ویکسین کر رہا ہے تاکہ ان دونوں بیماریوں کو ختم کیا جا سکے۔بتایا گیاکہ اس برس اب تک ان بیماریوں کے پھیلنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔اُنہوں نے لکھن پور میں پشو منڈی کے اِنعقاد کی تعریف کرتے ہوئے جس نے مقامی کسانوں کو پڑوسی ریاستوں جیسے پنجاب اور ہریانہ کے بیچنے والوں سے یوٹی میں اعلیٰ معیار کے مویشی خریدنے میںمدد فراہم کی ہے۔یپ ہسبنڈری سیکٹر کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2020ء میں شروعکی گئی انٹگریٹیڈ شیپ ڈیولپمنٹ سکیم ایک بڑی کامیابی ہے ۔ اَب تک 2,284 بھیڑ بکریوں کے یونٹ قائم کئے جاچکے ہیں اور اِس مالی سال کے اِختتام تک 693 مزید قائم کئے جائیں گے جس سے 5,954 اَفراد کو براہِ راست روزگار ملے گا اور مٹن کی پیداوا رمیں تقریباً12لاکھ کلوگرام کا اِضافہ ہوگا۔چیف سیکرٹری کو ماہی پروری کے شعبے کاجائزہ لینے کے دوران بتایا گیا کہ مچھلی کی پیداوار جو کہ 31 ؍مارچ 2020 ء تک 21,100 میٹرک ٹن تھی اس میں 31 ؍مارچ 2022 ء تک 25 فیصد اضافہ متوقع ہے، جب کہ صرف ٹراؤٹ کی پیداوار میں 156 فیصد اضافہ متوقع ہے۔محکمہ نے میٹنگ کو جموں میں فش مارکیٹ کے قیام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی جو مچھلی کی فروخت کے لئے ایک صحت مند ماحول فراہم کرے گی۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ٹراؤٹ کی افزائش اورپیداوار میں نمایاں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ٹراؤٹ مچھلی کی برآمد کے لئے مارکیٹ لنکیج فراہم کرنا ہوں گے اور محکمہ سے کہا کہ وہ سہولیت کار بنیں اور اس اقدام کا حصہ بننے کی ترغیب دیں۔










