چیئرپرسن جموں و کشمیر کے وِی آئی بی ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے جموں میں بینکرز جائزہ میٹنگ کی صدارت کی

جموں//چیئرپرسن جموںوکشمیر کے وِی آئی بی ڈاکٹرحنا شفیع بٹ کی صدارت میں روزگار پیدا کرنے کے پروگراموں کی کامیاب عمل آوری کو تقویت دینے کے لئے ایک مشترکہ کوشش کے تحت صوبہ جموںکے بینکرز جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی ۔ میٹنگ میں بورڈ کے سینئر افسران، حصہ لینے والے بینکوں کے افسران اور کھادی وِلیج انڈسٹریز بورڈ(کے وِی آئی بی) صوبہ جموںکے ضلعی افسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ رواں مالی برس کے دوران جموں و کشمیر وی آئی بی کی جانب سے 5,966 یونٹوںکے قیام کے لئے 122.84 کروڑ روپے کی مارجن منی جاری کی گئی ہے جس سے 46,558 اَفراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ رواں مالی برس کے دوران نمٹائے گئے کل معاملات میں سے تقریباً 40 فیصد خواتین کاروباریوں کے ہیں۔اِس موقعہ پر چیئرپرسن جموںوکشمیر کے وِی آئی بی ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت جموںوکشمیر یوٹی میں دیرپا ترقی کو یقینی بنانے کے لئے خواہشمند کاروباری اَفراداوربے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ روزگار پیدا کرنے کے پروگرام جیسے پی ایم ای جی پی اور جے کے آر ای جی پی کو اَنٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی کرنے، لوگوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے اور معاشی تنوع میں حصہ اَدا کرنے کے لئے بااِختیار بنانے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے روزگار پیدا کرنے والے پروگراموں کے کامیاب عمل آوری میں مالیاتی اِداروں کے عزم پر اعتماد کا اِظہار کیا۔تاہم اُنہوں نے بینکوں کو متنبہ کیا کہ وہ کمزور بنیادوں پر مقدمات کو مسترد کرنے سے گریز کریں۔اُنہوں نے فائنانسنگ بینکوں میں زیر اِلتوا ٔ معاملات کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے بینکروں کو مشورہ دیا کہ وہ فائنانسنگ بینک برانچوں کو ہدایات دیں کہ وہ گائیڈ لائنز میں طے شدہ ٹائم لائنز کے مطابق معاملات پر کارروائی کریں۔ اُنہوں نے بینکروںپر زور دیا کہ وہ خواتین اور معاشرے کے پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کے ساتھ ترجیحی سلوک کریں او ر ترجیحی بنیادوں پر اُن کے معاملات کو نمٹائیں۔چیئرپرسن جموں و کشمیر کے وی آئی بی نے بینکروں اور عمل آوری ایجنسیوں کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ روزگار پیدا کرنے والے پروگراموں جیسے پی ایم ای جی پی اور جے کے آر ای جی پی کے فوائد ہدف آبادی تک پہنچیں۔