Farooq abdullah

“پی اے جی ڈی ” اتحادیوں کے ساتھ مل کر اسمبلی انتخابات لڑے گے:فاروق عبداللہ

سری نگر// نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ جو پی اے جی ڈی کے سربراہ بھی ہیں نے اشارہ دیا ہے کہ “فرقہ وارانہ طاقتوں” کو شکست دینے کے لئے ان کی پارٹی ممکنہ طور پر جموں و کشمیر میں اگلے اسمبلی انتخابات نئے اتحاد کے ارکان کے ساتھ مل کر لڑے گے جبکہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں اس وقت صورتحال 90 کی دہائی سے بھی بدتر ہے کیونکہ نوجوانوں کو لگتا ہے کہ جدید ہندوستان میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ ان کا دلی پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔قومی خبراساں ایجنسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جب جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے تو ہم فرقہ وارانہ طاقتوں کو شکست دینے کے لیے دوبارہ ایک ساتھ بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم پی اے ڈی جی کی میٹنگ ہم نے کی تھی اور ہم سب نے حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مذمت کی جس میں ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر جموں کے لئے چھ اور کشمیر میں ایک نشست کی سفارش کی گئی تھی اس کے علاوہ درج فہرست قبائلوں کے لئے9 اور درج فہرست ذاتوں کے لئے 9 نشستیں مختص کی گئی ہیں اور ہم۔سب نے ان سفارشات کو یکسر مسترد کیا تاہم انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کشمیری پنڈتوں اور سکھوں کے گروہوں سے کیسے نمٹے گی جو سیاسی ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ تمام طبقات کے لوگ وہاں کیسے ہوں گے؟ ان باتوں کو کون ذہن میں نہیں رکھتا؟ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس ایوان بالا ہے جہاں ایسے لوگوں کو لایا جاتا ہے جو اسمبلی میں نہیں آسکتے تھے تاکہ ان کی آوازیں سنی جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک میں ہر ایک مسلمان چاہے وہ کشمیر سے تعلق رکھتا ہو یا باقی ہندوستان کی کسی ریاست سیاسے “مسلسل ثابت کرنا ہوگا” کہ وہ قوم پرست ہے یا نہیں حالانکہ ان لوگوں نے ملک کے لیے خون بہایا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں المیہ یہ ہے کہ ہر مسلمان، چاہے وہ کشمیر سے تعلق رکھتا ہو یا باقی ہندوستان سے، اسے مسلسل ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک قوم پرست ہے اور کہ وہ ہندوستانی ہے، کیوں؟ یہ دوسروں کے لیے کیوں نہیں کہا جا سکتا ہے؟ وہ ہندوؤں سے کیوں نہیں پوچھ سکتیکیا تم ہندوستانی ہو؟ کیوں صرف مسلمانوں جنہوں نے اس قوم کے لیے خون دیا ہے اور اس قوم کے لیے مسلسل خون دے رہے ہیں اور ہر جگہ اس قوم کا دفاع کر رہے ہیں؟کشمیر نیوز سروس کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کا اعتماد ختم ہو گیا ہے، نوجوانوں کو لگتا ہے کہ جدید ہندوستان میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے،انہیں لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی نوکری نہیں ہے جبکہ ہمارے پاس کوئی صنعت نہیں ہے، 50ہزار نوکریوں کا وعدہ کیا گیا تھا اسکا کیا ہوا؟انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر بینک میں انہوں نے ہریانہ اور پنجاب کے لوگ لائے تو پھر جموں و کشمیر کے ہمارے لوگوں کا کیا ہوگا، وہ کہاں جائیں گے؟ اعلیٰ تعلیم یافتہ آبادی دیکھتی ہے اور وہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹی موٹی بنیادوں پر گرفتاریاں ہوتی ہیں اور انہیں ایسے سخت قوانین کے تحت رکھا جاتا ہے اور کوئی سننے والا نہیں جبکہ کرپشن کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی آسمان پر پہنچ رہی ہے۔ کے این ایس کے مطابق سابق وزیر اعلی نے کہا کہ ہم اس سے تب ہی باہر نکل سکتے ہیں جب موجودہ حکومت کو یہ احساس ہو کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور آئین کے تمہید پر عمل کرے جو کہتا ہے کہ سب برابر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کمیونٹیز کو تقسیم کرنے کو عمل کو روک کر یہ کہنا ہے کہ ہندوستان زیادہ اہم ہے اور اگر آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور باقی دنیا سے بڑھ کر آگے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں کمیونٹیز کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد کرنا ہوگا۔سابق وزیر اعلیٰ نے گورنر انتظامیہ کے دربار موو کی عمل کو روکنے کے فیصلے پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک روایتی عمل تھی۔ جموں خطے کے اپنے حالیہ دورے پرجسے بی جے پی کا ایک مضبوط اڈہ سمجھا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہاں بی جے پی ہی سب کچھ ہے وہ “غلط” ہے اور یہ صرف ایک میڈیا ہائپ ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا لوگ ان مصائب کو دیکھتے ہیں جن سے وہ گزر رہے ہیں اور وہ وعدے جو انہوں نے کیے ہیں،لوگ محسوس کررہے ہیں کہ بھگوان رام کو خطرہ نہیں ہے اور مسلمانوں کو بھی معلوم ہوا کہ اللہ کو بھی خطرہ نہیں ہے،درحقیقت میں صرف لوگ ہیں جو خطرے میں ہیں، وہ تکلیف میں ہیں اور وہ کچھ جگہوں پر لوگ مشکل ہی زندگی کا گزارا کررہے رہے ہیں۔جموں و کشمیر میں ایک مقبول حکومت کی بحالی کے لئے جلد از جلد اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک جمہوری سیٹ اپ میں لوگ جا کر ایم ایل اے سے سوال کر سکتے ہیں کیونکہ ممبران اسمبلی ہمیشہ لوگوں کو دستیاب رہتے ہیں۔