PMGSY

پی ایم جی ایس وائی کے تحت4اضلاع میں صورتحال غیر ہموار

پلوں،ریاستی شاہراہوں اور سڑکوں کیلئے پیشگی 360کروڑ روپے واگزر

سرینگر//مرکزی معاونت والی اسکیم وزیر اعظم دیہی سڑک یوجنا کے تحت جموں کشمیر کے4ضلاع میںمقرر شدہ ہدف کی تکمیل ایک چلینج بن گیا ہے ،تاہم حکومت نے اس اسکیم کے تحت تعمیر ہونے والے پلوں،ریاستی شاہرائوں،سڑکوں کی تعمیر کیلئے360کروڑ روپے پیشگی میں واگزار کئے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم دیہی سڑک یوجنا کے تحت ہمہ موسمی سڑکوں کی تعمیر میں ریاسی،کشتواڑ،ڈوڈہ،بارہمولہ اور گاندربل کے علاوہ ادھمپور اضلاع میں ابھی تک ہدف مکمل نہیں ہوا ہے۔ نظامت معاشیات و شماریات کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق دسمبر2023تک ضلع ریاسی میں ابھی287کلو میٹر سڑکیں نامکمل ہیں جبکہ ضلع کشتواڑ میں223کلو میٹر اور ضلع ڈوڈہ میں233کلو میٹر سڑکیں نامکمل ہے۔ اعداد شمار کے مطابق ضلع بارہمولہ میں121کلو میٹر،گاندربل میں48کلو میٹر ،ادھمپور میں228کلو میٹر اور ضلع کھٹوعہ میں111کلو میٹروں کے علاوہ راجوری میں 131کلو میٹر سڑکیں ابھی تعمیر کرنی باقی ہیں۔ دسمبر2023تک جاری ڈی جی جی آئی رپورٹ کے مطابق ضلع جموں میں100کلو میٹربانڈی پورہ میں23،بڈگام میں41کلو میٹر اور رام بن میں49کلو میٹروں سڑکوں کی تعمیر باقی ہیں۔ اس دوران تاہم سرکار نے وزیر اعظم دیہی سڑک یوجنا کے تحت3کروڑ59لاکھ99ہزار754روپے پیشگی واگزار کرنے کو منظوری دی۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے سیکریٹری پھوپیندر کمار کی جانب سے جاری 5علیحدہ علیحدہ آرڈر وں کے ذریعے ان رقومات کو ایلگ الگ مدوں میں واگزار کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ حکم نامہ کے مطابق’’ مرکزی وزارت دیہی ترقی کی جانب سے مرکزی معاونت والی اسکیم وزیر اعظم دیہی سڑک یوجنا کے تحت 99,46,72,236 روپے کے فنڈس کومحکمہ تعمیرات عامہ کے ڈائریکٹر فائنانس کو پیشگی میں واگزار کرنے کو منظوری دی جاتی ہے۔‘‘ آرڈر میں تاہم کہا گیا ہے کہ ان رقومات کو اسی مقصد کیلئے استعمال کیا جانا چاہے جس مقصد کیلئے اس کو وازگار کیا گیا ہے جبکہ محکمہ کے ڈائریکٹر فائنانس متعلقہ ہیڈ آف اکاؤنٹ کے تحت فنڈس کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے۔ محکمہ تعمیرات عامہ نے اس سلسلے میں تمام کوڈل ضوابط کوپورا کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مد کے تحت اگر کوئی پیشگی ادائیگی کی جائے توپہلے مناسب طور پر محفوظ اور مناسب طریقے سے ضمانت دی جا نی چاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ۔ مذکورہ کام کو انجام دینے کے لیے مجاز اتھارٹی سے تکنیکی منظوری ونتظامی منظوری حاصل کرنی لازمی ہے جبکہ یہ اخراجات اسکیم کے رہنما خطوط اور متعلقہ وزارت، کے منظور شدہ خط میں درج شرائط کے مطابق سختی سے تصرف میں لائی جانی چاہے۔ یہ رقم الگ الگ قسطوں میں ریاستی شاہرا?ں،پلوں اور ’پی ایم جی ایس وائی‘ سڑکوں کے مد?ں کے تحت جاری کی گئی ہے۔ پہلی قسط میں99کروڑ45لاکھ72ہزار236جبکہ دوسری قسط کے تحت9کروڑ97لاکھ48ہزار658اور تیسری قسط کے تحت155کروڑ80لاکھ96ہزار156اور چوتھی و آخری قسط کے تحت4کروڑ97لاکھ47ہزار704روپے کی رقم کو پیشگی واگزار کرنے کو منظوری دی گئی ہے۔پی ایم جی ایس وائی کے ایک ٹھیکدار معراج الدین گنائی نے بتایا کہ پیشگی رقومات کی واگزار سی سے تعمیراتی کام میں تیزی آئی گی اور پروجیکٹ بھی وقت پر مکمل ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ رقومات کی واگزاری میں بعض اوقات تاخیری کے نتیجے میں کام کی رفتار میں کمی واقع ہوتی ہے۔فروری کو مرکز نے جموں و کشمیر میں کل 134 کلومیٹر لمبائی والی 12 سڑکوں اور ایک پل کے منصوبے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 152.30 کروڑ روپے کے پیکیج کو منظوری دی ہے۔جموں و کشمیر کے لیے پی ایم جی ایس وائی ،سوم پروگرام کے تحت 1,750 کلومیٹر پر محیط کل 233 سڑکوں کے پروجیکٹوں اور ان سڑکوں کے الائنمنٹ میں آنے والے 66 پلوں کو 2,245.46 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے اپ گریڈیشن کے لیے منظور کیا گیا ہے۔