پاکستان سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ، کشمیرکے لوگ جب چاہیں گے بات کریں گے:منوج سنہا

سری نگر//جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کی ضرورت نہیں ہے۔ کشمیری پنڈتوں پر حملوں کودہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان سے حکم آنے پر کشمیر میں دکانیں بند کر دی جاتی تھیں اور اب وہ صورتحال بدل گئی ہے۔منوج سنہا نے منسوخی370کے مقاصداوراسکی حصولیابیوں کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی پارلیمنٹ کے بنائے گئے بہت سے قوانین جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوتے تھے، اب جموں و کشمیر میں رائٹ ٹو ایجوکیشن جیسے 890 قوانین نافذ ہیں۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ جموں و کشمیر کو پورے ملک کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور وہ بھی کامیاب رہا ہے۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ دو مقاصد جو حاصل نہیں ہو سکے؟ ریونیو جنریشن کو کیسے بڑھایا جائے، تاکہ یہاں جی ڈی پی دوگنی ہو۔ سیکورٹی اداروں کے درمیان تال میل 90 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور بہتر ہو رہا ہے ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق بی بی سی ہندی سروس کیساتھ ایک خصوصی بات چیت میں لیفٹنٹ گورنرمنوج سنہا نے کہاکہ اب دہلی یا جموں و کشمیر کی انتظامیہ امن خریدنے میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے میں یقین رکھتی ہے، اس لیے اسی سمت میں کام کیا جا رہا ہے کہ امن خریدا نہ جائے بلکہ امن قائم ہو سکے۔اس سوال کے جواب میں کہ محبوبہ مفتی کہتی رہی ہیں کہ جب تک پاکستان سے مذاکرات نہیں ہوتے کشمیر میں مستقل امن نہیں ہو سکتا، لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کاکہناتھاکہ یہ ان کی رائے ہے لیکن میں مطمئن ہوں کہ اگر میں بات کرنا چاہتا ہوں تو میں یہاں کے لوگوں سے بات کروں گا۔ آپ کو یہاں کے نوجوانوں سے بات کرنی ہے، وہ پاکستان سے بات کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس سے کچھ ہونے والا ہے۔ یہاں کے لوگ جب چاہیں گے بات کریں گے۔انہوںنے کہاکہ کشمیر وادی کے شہری اور نوجوان اب ان چیزوں سے بیزار ہوچکے ہیں اور وہ ملک کے لوگوں سے رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں، ایسے عناصر کی ایک قلیل تعداد ہے جو پڑوسیوں کے کہنے پر کام کرتے ہیں اور ایسی چیزیں پھیلاتے ہیں۔منوج سنہا نے کہاکہ 2019 میں بہت سے مقامی لوگوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے افراد کو سیکورٹی ایجنسیوں نے اٹھایا ہے اور وہ ان الزامات سے بھی واقف نہیں ہیں؟۔انہوںنے کہاکہ کوئی سیاسی، سماجی یا مذہبی شخص جیل یا حراست میں نہیں ہے،ہاں مجرم کیلئے جیل ہے تو وہ جیل میں ہی رہیں گے۔اس سوال کے جواب میں کہ میر واعظ عمر فاروق کے ساتھ رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے اُنہیں نظر بند کر رکھا ہے اور الزامات کا بھی پتہ نہیں چل رہا،کے جواب میں منوج سنہا نے کہاکہ2019 میں بھی ان پرپبلک سیفٹی ایکٹ نہیں لگایا گیا تھا، وہ بند نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے سسر کو بھی بدقسمتی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس ان کے ارد گرد رکھتی ہے تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ انہیں خود فیصلہ کرنے دیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہ تو نظر بند ہیں اور نہ ہی گھر میں نظر بند ہیں، اُن کے گھر پر کوئی سکیورٹی اہلکار تعینات نہیں ہے، لیکن اس کے گھر کے ارد گرد پولیس اہلکار تعینات ہیں، تاکہ اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ایک اورسوال کہ انتظامیہ انسانی حقوق کے کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے تاکہ وہ آواز نہ اٹھا سکیں، جیسے خرم پرویز کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے؟،کے جواب میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ ایسے لوگ جو انسانی حقوق کے نام پر آئی ایس آئی کے لئے کام کرتے ہیں، ٹارگٹ کی نشاندہی کرتے ہیں، جن کے خلاف ثبوت ہیں کہ انھوں نے اس قتل میں ملوث دہشت گرد کو معلومات فراہم کی ہیں، ان کی جانچ این آئی اے نے کی ہے۔ خرم پرویز کے کیس میں23 مئی کو سات افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی تھی۔ انہوںنے کہاکہ اب اگر یہ لوگ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں تو خدا ان کو بچائے۔ یہ سب NIA کے پاس ریکارڈ پر ہے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ غلط ہوا ہے تو وہ عدلیہ سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہیں۔بحالی امن اورپنڈتوں بشمول عام شہریوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق سوال کے جواب میں منوج سنہا نے کہاکہ دہشت گردانہ حملوں کو کسی مذہب کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ آپ دیکھیں تو کشمیری مسلمان بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور یہ تعداد کم نہیں بلکہ زیادہ ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ یہاں سڑکوں پر 125سے150 بے گناہ لوگ مارے گئے، لیکن پچھلے تین سالوں میں ایک بھی شخص سیکورٹی فورسز کی گولیوں سے نہیں مارا گیا، یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ پتھراؤ اور ہڑتال سب تاریخ کا معاملہ ہے۔ ایک پہلے کا منصوبہ، جسے بحالی کا منصوبہ کہا جاتا تھا، وادی میں6000 کشمیری پنڈتوں کو روزگار اور محفوظ رہائش فراہم کرنا تھا۔ پہلے نوکریاں دینے کی رفتار بہت سست تھی لیکن اب ہم نے تقریباً 400 کے علاوہ تمام آسامیاں پْر کر دی ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ انتہا پسندوں کے افراد خانہ کوسرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے،کے جواب میں لیفٹنٹ گورنر نے بی سی کوبتایاکہ ایسے لوگوں کو ہٹایا جا رہا ہے جن کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں کہ وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے۔ ایک بھی بے گناہ کو بے دخل نہیں کیا گیا لیکن ایسے لوگوں کو بے دخل کیا گیا ہے اور ہوتا رہے گا۔اس اہم سوال کہ کشمیر میں الیکشن کب ہوں گے؟ کاجواب دیتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ ہم جمہوریت پر کسی سے سبق نہیں چاہتے،جمہوریت کا مطلب صرف اسمبلی انتخابات نہیں ہوتا،پنچایت کا نمائندہ ضلع پنچایت کا چیئرمین، لوک سبھا کا رکن ہوتا ہے۔تاہم انہوںنے کہاکہ خاص وجوہات کی وجہ سے اسمبلی انتخابات نہیں ہو رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کی میز پر کہا کہ پہلے حد بندی ہوگی، پھر انتخابات ہوں گے اور اس کے بعد ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہو چکا ہے، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، پولنگ کے مقامات طے ہوئے تو الیکشن کمیشن وقت پر فیصلہ کرے گا۔ وزیر داخلہ نے ملک کی پارلیمنٹ میں جو یقین دہانی کرائی ہے وہ بڑی بات ہے اس لیے اس پر عمل کیا جائے گا۔ صحیح وقت پر مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔کیا اب باہر کے لوگ جموں و کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں؟ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ جیسی پہاڑی ریاستوں میں رہائشیوں کی قابل کاشت زمین کے تحفظ کے لئے قانون موجود ہے ،کے بارے میں منوج سنہا کاکہناتھاکہ، ایسا قانون یہاں بھی لایا گیا ہیلیکن صنعتوں کو زمین دلوانے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔اس سوال کہ اگر اتنی سرمایہ کاری ہے تو بے روزگاری میں کمی کا اثر ہونا چاہیے، لیکن سی ایم آئی ای کے اعداد و شمار میں اتنی سرمایہ کاری کے بعد بھی روزگار کا فقدان ہے، کیوں؟ کے جواب میں لیفٹنٹ گورنر نے کہاکہ CMIE کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے، لیکن ان کے اعداد و شمار ہر ماہ کیسے بدلتے ہیں، یہ بھی غور طلب ہے۔ انہوںنے کہاکہ بنیادی طور پر جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمت ہی روزگار کا واحد ذریعہ رہی ہے۔ یہاں پانچ لاکھ لوگ سرکاری نوکریوں پر ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں خالی آسامیاں تیزی سے پر کی جا رہی ہیں،30 ہزار نوکریاں دی گئی ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق جو سرمایہ کاری آرہی ہے، وہ 70سے75ہزار کروڑ تک جائے گی اور اس سے5سے6 لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔