برطانیہ کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنی ایک رپورٹ میں فاش کیا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے عہدیدار متحدہ عرب امارات کو ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست کردار ادا کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ امریکی حکام متحدہ عرب امارات پر دباو ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے قریب ایک ایرانی جزیرے پر فوجی قبضہ کر لے۔ یاد رہے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ماہ مبارک رمضان میں اسلامی جمہوریہ ایران پر فوجی جارحیت میں متحدہ عرب امارات نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے بڑی تعداد میں فوجی اور فوجی سازوسامان متحدہ عرب امارات میں تعینات کر رکھا تھا اور وہاں سے براہ راست ایران کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اس ظالمانہ جنگ میں متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کا پورا ساتھ دیا اور حتی ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی کیا تھا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے کم از کم دو بار براہ راست ایران کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا تھا۔
ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ حکومت کے ایک سابق اعلی سطحی سیکورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ کے کچھ قریبی افراد نے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کو “لاوان” جزیرے پر قبضہ کر لینے کا مشورہ دیا ہے۔ یاد رہے اپریل میں بھی متحدہ عرب امارات سے اس جزیرے پر میزائل حملے انجام پائے تھے۔ ٹرمپ حکومت نے متحدہ عرب امارات کو یہ پیشکش بھی کی ہے کہ لاوان جزیرہ امریکی فوجیوں کے قبضے کی بجائے اماراتی فوج کے قبضے میں رہے۔ دوسری طرف ایران کے اعلی سطحی فوجی اور سیاسی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی دوبارہ فوجی جارحیت کی صورت میں ایسا ردعمل ظاہر کیا جائے گا جو دشمن کو حیرت زدہ کر دے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل شریف نے امریکی حکام کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کے جواب میں کہا: “باتیں کرنے اور عمل کرنے میں بہت فرق ہے اور زمینی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکتا۔”










