۔/ایجنسیز// اقوام متحدہ کے انسانی حقوق شعبے کے سربراہ وولکر ترک نے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے نئے قائم کردہ خصوصی فوجی ٹربیونل کو ختم کرے جو اس نے فلسطینی جنگجوؤں کے خلاف 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی وجہ سے مقدمات چلانے کیلئے قائم کیا ہے۔ انسانی حقوق سربراہ کا یہ بیان چہارشنبہ کے روز سامنے آیا ہے۔اسرائیلی پارلیمان نے پیر کی رات دیر گئے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت فوجی ٹربیونل قائم کیا جائے گا۔ یہ خصوصی فوجی ٹربینول ان فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلانے کا ذمہ دار ہوگا جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے میں حصہ لیا یا مدد کی۔ ٹربیونل فلسطینیوں کو سزائے موت بھی دے سکے گا۔اس قانون کی منظوری کے بعد اب خصوصی ٹربیونل قائم ہوگا جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 400 فلسطینیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ وولکر ترک نے کہا یہ درست ہے کہ خوفناک حملے کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے لیکن بین الاقوامی معیارات اور قانون کی عملداری کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اسرائیل کو چاہیے کہ وہ اپنے اس قانون کو ختم کرے جو بین الاقوامی قانون و اقدار کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا اس اسرائیلی اقدام سے فلسطینیوں کے خلاف یکطرفہ انصاف اور امتیازی سلوک برآمد ہوگا جو کسی کے بھی حق میں نہیں جائے گا اور اس سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔یاد رہے 7 اکتوبر 2023 کے روز اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے دو سال سے زائد عرصے تک غزہ میں جنگ کی۔
جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوگئے جبکہ انتہائی گنجان آباد غزہ کی پٹی مکمل طور پر تباہ کر دی گئی۔ اب اسرائیل نے فلسطینیوں کو خصوصی فوجی عدالت میں پیش کرنے کا تہیہ کیا ہے۔










