مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پر بھارت کا سخت مؤقف

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پر بھارت کا سخت مؤقف

’’امن ٹکڑوں میں ممکن نہیں‘‘،برکس اجلاس میں جئے شنکر کا عالمی برادری کو واضح پیغام

سرینگر// یو این ایس// عالمی سیاست ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی تجارتی دباؤ، توانائی بحران، بحری راستوں کو لاحق خطرات اور عالمی اداروں کی کمزور ہوتی ساکھ نے دنیا کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں وزیر خارجہ جے شنکرنے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں نہایت واضح، دوٹوک اور متوازن مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘امن کو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا’’ اور اگر دنیا واقعی استحکام چاہتی ہے تو اسے طاقت کے استعمال، دباؤ اور یکطرفہ پابندیوں کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی راہ اپنانا ہوگی۔یو این ایس کے مطابق بھارت کے زیرِ صدارت نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ دو روزہ برکس اجلاس میں دنیا کی ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اجلاس میںسرگے لارو،عباس عراقچی،مارو وئرا،رونالڈ لامولا،خلیفہ الشاہین مرار، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ سمیت کئی اعلیٰ سطحی رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا جب مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی، بین الاقوامی شپنگ روٹس، بحری سلامتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کی معیشتوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔اپنے خطاب میں جئے شنکر نے خاص طور پر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبی راستے عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہاں کشیدگی مزید بڑھی یا بحری نقل و حرکت متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، مہنگائی اور توانائی قیمتوں پر پڑیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ان راستوں میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت یقینی بنانی چاہیے۔بھارتی وزیر خارجہ نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر بھی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لاکھوں عام شہری مسلسل خوف، بھوک اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں، اسکولوں، بجلی و پانی کے نظام اور دیگر عوامی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے سے انسانی صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ جئے شنکر نے کہا کہ مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی اور دیرپا سیاسی حل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ بھارت فلسطین مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی نظریے کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ یہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال سے وقتی خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے لیکن حقیقی اور دیرپا امن صرف سیاسی مذاکرات اور انصاف پر مبنی حل سے ہی ممکن ہے۔جئے شنکر نے لبنان، شام، سوڈان، یمن اور لیبیا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا مختلف خطوں میں مسلسل بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے اور اگر عالمی برادری نے مشترکہ اور سنجیدہ سفارتی کوششیں نہ کیں تو یہ تنازعات مزید پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ’’استحکام انتخابی نہیں ہو سکتا‘‘۔ اگر ایک خطہ جل رہا ہو اور دوسرا خاموش رہے تو عالمی امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کسی ملک کا نام لیے بغیر یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور ‘‘جبری اقدامات’’ پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی روح کے خلاف ہیں اور ان کا سب سے زیادہ نقصان ترقی پذیر ممالک کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ اور پابندیاں اکثر عام عوام کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں جبکہ سیاسی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا کو ’’پابندیوں کی سیاست‘‘سے نکل کر ’’مذاکرات کی سیاست‘‘ کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ دباؤ کبھی بھی سفارت کاری کا متبادل نہیں بن سکتا۔ مبصرین کے مطابق جئے شنکر کے یہ بیانات بالواسطہ طور پر مغربی طاقتوں کی اقتصادی پابندیوں کی پالیسی پر تنقید تصور کیے جا رہے ہیں۔اپنے خطاب میں بھارتی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کو بھی عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور دنیا کو اس معاملے میں کسی قسم کے دوہرے معیار سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی خواہ کسی بھی شکل یا مقصد کے تحت ہو، اسے کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔جئے شنکر نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے اثرات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک نئی تکنیکی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہیں لیکن ان کے ساتھ شفافیت، اعتماد، ڈیجیٹل عدم مساوات اور ڈیٹا تحفظ جیسے اہم مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی دیے بغیر عالمی ترقی متوازن نہیں ہو سکتی۔ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ موسمیاتی بحران اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکا ہے۔ دنیا کے کئی حصے شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی انصاف کے بغیر موسمیاتی انصاف ممکن نہیں اور ترقی پذیر ممالک کو گرین ٹیکنالوجی، مالی معاونت اور تکنیکی تعاون کی فوری ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے جئے شنکر نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی موجودہ ساخت آج کی عالمی حقیقتوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ان کے مطابق ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں اور مزید تاخیر عالمی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔اجلاس کے اختتام پر جئے شنکر نے کہا کہ آج کی دنیا کو ایک ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جو زیادہ منصفانہ، جامع اور متوازن ہو۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کو نہ صرف اقتصادی تعاون بڑھانا ہوگا بلکہ عالمی امن، استحکام اور انصاف کے لیے بھی مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ برکس اب دنیا کے طاقتور ترین اقتصادی و سیاسی گروپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں اس اتحاد میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل تھے، تاہم بعد ازاں مصر، ایران، ایتھوپیا، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کی شمولیت سے اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ یہ اتحاد اس وقت دنیا کی تقریباً نصف آبادی، عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 40 فیصد اور عالمی تجارت کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے باعث عالمی سیاست اور معیشت میں اس کا کردار مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔