300سے زائددیہات میںسیب باغات اور فصلوں کو بھاری نقصان
سرینگر// یو این ایس//شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ اور شوپیاں میں شدید ژالہ باری اور تیز ہواؤں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں سیب کے باغات، سبزیوں کی فصلیں اور دیگر زرعی اراضی کو بھاری نقصان پہنچا۔ اچانک آئی قدرتی آفت نے سینکڑوں کسان خاندانوں کو شدید صدمے اور معاشی بحران سے دوچار کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سنگرامہ، واگورہ، کریری، پٹن، کنڈی، چوندوسہ، پچھاڑ، ٹنگمرگ، خیپورہ، کنڈی بیلٹ اور رفیع آباد کے کئی علاقوں میںژالہ باری سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چند ہی منٹوں میں باغات اور فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ پورا علاقہ اولوں کی سفید تہہ میں ڈھک گیا۔عینی شاہدین کے مطابق؎ ژالہ باری کے ساتھ تیز آندھی بھی چلتی رہی جس کے باعث پھلدار درختوں کی شاخیں ٹوٹ گئیں اور تیار ہورہے سیب زمین پر گر گئے۔ کئی علاقوں میں سبزیوں کے کھیت بھی مکمل طور متاثر ہوئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق کنڈی بارہمولہ کے باغ مالک ارشاد احمد نے بتایا کہ ڑالہ باری کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لمحوں میں باغات اجڑ گئے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے پورا سال محنت کی تھی اور اس بار اچھی فصل کی امید تھی، مگر چند منٹوں کی ژالہ باری نے سب کچھ ختم کردیا۔‘‘شیخ پورہ واگورہ کے رہائشی فیاض احمد نے کہا کہ تقریباً دس منٹ تک جاری رہنے والی ڑالہ باری نے باغات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ باغ مالکان شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور اب انہیں اپنے مستقبل کی فکر ستا رہی ہے۔مقامی کسانوں کے مطابق کئی علاقوں میں 80 سے 90 فیصد تک پھلوں کی فصل تباہ ہوگئی ہے۔ کسانوں نے کہا کہ انہوں نے کھاد، ادویات، آبپاشی اور باغات کی دیکھ بھال پر لاکھوں روپے خرچ کئے تھے لیکن اچانک آئی اس آفت نے ان کی ساری محنت خاک میں ملا دی۔ژالہ باری کے بعد کئی دیہات میں غم و افسردگی کا ماحول دیکھا گیا۔ متاثرہ باغ مالکان اپنے تباہ شدہ باغات کا معائنہ کرتے ہوئے آبدیدہ نظر آئے جبکہ کسان طبقہ حکومت سے فوری مدد کا مطالبہ کررہا ہے۔متاثرین نے انتظامیہ اور محکمہ باغبانی سے اپیل کی ہے کہ فوری طور نقصان کا تخمینہ لگایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ اور امدادی پیکیج فراہم کیا جائے تاکہ وہ معاشی بحران سے باہر آسکیں۔ماہرین کے مطابق وادی کشمیر میں حالیہ دنوں موسمی تغیرات کے باعث ڑالہ باری اور تیز ہواؤں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس سے باغبانی شعبہ مسلسل متاثر ہورہا ہے۔ کسان طبقہ نے حکومت سے فصل بیمہ اسکیموں کو مؤثر بنانے اور قدرتی آفات سے تحفظ کیلئے مستقل اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔یو این ایس کے مطابقجنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بدھ کے روز ایک بار پھرژالہ باری نے سیب پیدا کرنے والے کئی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد باغ مالکان اور کسانوں نے حکومت سے مؤثر فصل بیمہ اسکیم نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلسل موسمی جھٹکوں نے وادی کے باغبانی شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ژالہ باری سے ضلع شوپیاں کے کنی پورہ ڈل، کنجی اْلر اور رام نگری علاقوں کے باغات متاثر ہوئے۔ اگرچہ کئی مقامات پر نقصان کم درج کیا گیا، تاہم کسانوں کا کہنا ہے کہ بار بار آنے والی ڑالہ باری نے انہیں شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔کنجی اْلر کے ایک باغ مالک عابد حسین نے بتایا کہ ڑالہ باری شام تقریباً پانچ بجے شروع ہوئی اور دو سے تین منٹ تک جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ نقصان نسبتاً کم ہوا، تاہم کسان مسلسل خراب موسم کے باعث پریشان ہیں۔کنی پورہ ڈل اور رام نگری کے کسانوں نے بھی اپنی فصلوں کو معمولی یا نہ ہونے کے برابر نقصان پہنچنے کی اطلاع دی، لیکن باغ مالکان کا کہنا ہے کہ بار بار موسمی آفات کی وجہ سے سیب کی کاشت خطرات سے بھرپور ہوتی جارہی ہے۔یہ رواں موسم میں دوسری مرتبہ ہے جب شوپیاں کے سیب باغات ڑالہ باری کی زد میں آئے ہیں۔ اس سے قبل 18 اپریل کو شدید ژالہ باری نے شوپیاں اور ہمسایہ ضلع کولگام کے باغات کو بھاری نقصان پہنچایا تھا، خاص طور پر اس وقت جب بیشتر درخت پھولوں کے مرحلے میں تھے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ مؤثر فصل بیمہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہر بار مالی نقصان خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک مقامی باغ مالک نے کہا، ’’ہمارے پاس کوئی حفاظتی نظام موجود نہیں۔ اس مرحلے پر ہونے والا نقصان پورے سال کی آمدنی کو متاثر کرتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ غیر متوقع موسمی تبدیلیوں نے سیب کی کاشت کو نہ صرف غیر یقینی بلکہ مالی طور پر بھی انتہائی خطرناک بنادیا ہے۔ باغ مالکان کے مطابق کھاد، ادویات، مزدوری اور باغات کی دیکھ بھال پر بھاری اخراجات آتے ہیں، لیکن قدرتی آفات چند منٹوں میں ساری محنت ضائع کردیتی ہیں۔یو این ایس کے مطابققابل ذکر ہے کہ کشمیر کی معیشت میں سیب صنعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور شوپیاں کو وادی کے اہم سیب پیدا کرنے والے اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہزاروں خاندان براہ راست باغبانی شعبے سے وابستہ ہیں۔کسانوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر ایک مضبوط اور قابل اعتماد فصل بیمہ اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ممکن ہوسکے اور باغبان معاشی تحفظ حاصل کرسکیں۔










