سرینگر//// یو این ایس// جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کوضلع کپواڑہ کے سرحدی اور حساس علاقے کرناہ کے ٹنگڈار میں ایس ایم ہل پر ’’شوریہ گاتھا کمپلیکس‘‘ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ منصوبہ جنگی تاریخ، شہداء کی قربانیوں اور دفاعی ورثے کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق افتتاحی تقریب میں بڑی تعداد میں فوجی و سول حکام، مقامی نمائندوں اور عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے منصوبے کو بروقت مکمل کرنے پر شمالی کمان، چنار کور، انجینئرنگ یونٹوں، تعمیراتی عملے اور مقامی آبادی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ سرحدی علاقوں میں بھی ترقیاتی کام تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں اور عوام و اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی موجود ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ملک کے بہادر سپاہیوں نے سرحدوں کے تحفظ کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان کی یاد کو زندہ رکھنا نہ صرف قومی ذمہ داری ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک مضبوط پیغام بھی ہے۔ ان کے مطابق ’’شوریہ گاتھا کمپلیکس‘‘ ان ہی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جو نوجوانوں میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے جذبات کو مزید مضبوط کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کمپلیکس سرحدی سیاحت اور ’’بیٹل فیلڈ ٹورازم‘‘ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف مقامی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ ہوم اسٹے، ٹریول، مقامی دستکاری، گائیڈ سروسز اور چھوٹے کاروباروں کیلئے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے سیاحت ایک پائیدار ذریعہ بن سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت ترقی، استحکام اور بہتر حکمرانی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں انفراسٹرکچر کے منصوبے تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں اور عوامی سہولیات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف صرف ترقیاتی منصوبے شروع کرنا نہیں بلکہ انہیں ایسے علاقوں تک پہنچانا ہے جہاں برسوں سے محدود سہولیات دستیاب تھیں۔انہوں نے کہا کہ سرحد کے اس پار حالات مختلف ہیں، جبکہ جموں و کشمیر میں امن، ترقی اور خوشحالی کا ماحول مضبوط ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے کی ترقی ایک حقیقت ہے اور اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے تاکہ ہر طبقے تک اس کے ثمرات پہنچ سکیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے ویبرانٹ ولیج پروگرام کو حکومت کا ایک اہم فلیگ شپ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرناہ کے سات دیہاتوں کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر، روزگار کے مواقع، سیاحتی سہولیات اور مقامی معیشت کی مضبوطی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سادھنا ٹنل جیسے منصوبے اس خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوں گے، کیونکہ اس سے پورے سال آمد و رفت ممکن ہو سکے گی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف تجارت اور کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ تعلیم، صحت اور ایمرجنسی خدمات کی فراہمی بھی بہتر ہو گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سرحدی علاقوں کی ترقی صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں سماجی ترقی، روزگار اور نوجوانوں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سیاحت، دستکاری اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے مقامی معیشت کا حصہ بنیں۔انہوں نے منشیات کے خلاف جاری مہم ’’نشاء مْکت جموں و کشمیر‘‘ میں فوج اور عوام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کیلئے مسلسل نگرانی اور عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات سے دور رکھنا ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔تقریب میں شمالی کمان کے کمانڈر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل پراتک شرما، چنار کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل بلدیر سنگھ، ایم ایل اے کرناہ جاوید احمد مرچل سمیت اعلیٰ فوجی و سول افسران نے شرکت کی اور منصوبے کو خطے کی ترقی کیلئے اہم قرار دیا۔










