بیجنگ /ایجنسیز// امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج جمعرات کو بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب ژی جن پنگ سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں عالمی قوتوں کا مستقبل ’’شاندار‘‘ ہوگا۔ بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہونے والے اس اجلاس میں تجارت، ایران اور تائیوان جیسے متنازع امور اور ان کے عالمی اثرات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔صدر ٹرمپ نے ملاقات میں شی جن پنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ ہونا اور آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، چین اور امریکہ کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوں گے۔دوسری جانب چینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا “مد مقابل نہیں بلکہ شراکت دار” بننا چاہیے، کیونکہ تعاون میں دونوں کا فائدہ اور تصادم میں نقصان ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ شی جن پنگ نے امریکی کمپنیوں کے سربراہان کو یقین دلایا کہ چین کے دروازے دنیا کیلئے مزید کھلیں گے۔تقریب کے آغاز میں شی جن پنگ نے امریکی وفد کا استقبال کیا اور امریکی وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مصافحہ کیا۔ مارکو روبیو کو اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں بیجنگ کا سخت مخالف سمجھا جاتا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس دو روزہ دورے میں ان کے ہمراہ “انویڈیا” کے سی ای او جین سون ہوانگ اور ایلون مسک سمیت کئی با اثر کاروباری شخصیات شامل ہیں، جو اس دورے کے تجارتی و کاروباری رخ کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایلون مسک نے اس ملاقات کو ’’شاندار‘‘ قرار دیا ہے۔صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں زراعت، طیارہ سازی اور دیگر شعبوں میں تجارتی سودے شامل ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ صدژی سے چین کو مزید مواقع کیلئے (کھولنے کی) درخواست کریں گے تاکہ با صلاحیت لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے چین کو مزید بلندیوں تک لے جا سکیں۔تاہم ان تجارتی عزائم کے ساتھ تائیوان اور ایران کے حوالے سے سیاسی تناؤ بھی برقرار ہے۔ ایران کے معاملے پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ شی جن پنگ سے طویل بات چیت کریں گے، کیونکہ ایران امریکی پابندیوں کے باوجود اپنے تیل کا بڑا حصہ چین کو فروخت کرتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ چین کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے گا کہ وہ ایران کو خلیج عرب میں اپنی حالیہ سرگرمیوں سے باز رکھنے کیلئے فعال کردار ادا کرے۔دونوں سربراہان دیگر اہم امور جیسے نایاب معدنیات کی برآمد پر چینی پابندیوں، مصنوعی ذہانت (AI) میں مقابلے اور تجارتی محصولات پر بھی گفتگو کریں گے۔ توقع ہے کہ دونوں رہنما اس “تجارتی جنگ بندی” میں ایک سال کی توسیع پر بھی بات کریں گے جس پر اکتوبر میں جنوبی کوریا میں اتفاق ہوا تھا۔ تائیوان کے حساس معاملے پر ٹرمپ نے تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر بات کرنے کا اشارہ دیا ہے، جو کہ واشنگٹن کی روایتی پالیسی سے انحراف ہے کیونکہ امریکہ اس معاملے میں بیجنگ سے مشاورت نہیں کرتا تھا۔اس سربراہی ملاقات کا مقصد کشیدہ تعلقات کو استحکام دینا اور باہمی مفادات حاصل کرنا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اس امید کے ساتھ واپسی چاہتے ہیں کہ صدر شی جن پنگ کے دورہ امریکہ کے لیے 2026 کی کوئی تاریخ طے پا جائے تاکہ وہ اپنے اچھے تعلقات کا ثبوت دے سکیں۔










