6ماہ کی خشک سالی سے وادی خطرے کی دہلیز پر

6ماہ کی خشک سالی سے وادی خطرے کی دہلیز پر

خاموش آبی بحران،چشمے سکڑنے لگے، جہلم میں بہاؤ کم ہونے کا خدشہ/ماہرین کا انتباہ

سرینگر//یو این ایس//وادی کشمیر میں مسلسل کم ہوتی بارشیں اب محض موسمی تبدیلی کا معاملہ نہیں رہیں بلکہ ماہرین اسے ایک ابھرتے ہوئے ’’خاموش آبی بحران‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں پینے کے پانی، زراعت، پن بجلی اور روزمرہ زندگی پر نمایاں طور محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ چھ ماہ سے جاری خشک موسم نے نہ صرف زمین کی نمی کم کر دی ہے بلکہ قدرتی چشموں، ندی نالوں اور برفانی ذخائر کی بحالی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو گرمیوں کے عروج پر کشمیر کے کئی علاقوں، خاص طور پر دیہی اور پہاڑی خطوں میں پانی کی قلت سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ان علاقوں کی بڑی آبادی آج بھی قدرتی چشموں اور مقامی آبی وسائل پر انحصار کرتی ہے، جو مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں جموں و کشمیر میں معمول کے 99.6 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف 86.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، یعنی 13 فیصد کمی۔ تاہم ماہرین کے مطابق اصل تشویش ایک ماہ کی کمی نہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری وہ موسمی رجحان ہے جس میں سردیوں کے دوران بارش اور برفباری مسلسل کم ہو رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ سات سردیوں میں خطے کو معمول سے کم برفباری اور بارش کا سامنا رہا۔وادی کشمیر کے کئی اضلاع میں صورتحال خاصی تشویشناک دیکھی گئی۔ شوپیاں میں سب سے زیادہ 67 فیصد کم بارش ریکارڈ ہوئی، جہاں معمول کے 102.1 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف 33.9 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اننت ناگ میں 46 فیصد، کولگام میں 39 فیصد اور پلوامہ میں 38 فیصد کمی درج کی گئی۔سرینگر میں بھی صورتحال اطمینان بخش نہیں رہی جہاں 93.9 ملی میٹر معمول کے مقابلے میں صرف 63.8 ملی میٹر بارش ہوئی، جو 32 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ بڈگام، گاندربل، بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی بارش معمول سے کم ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق برفانی ذخائر میں کمی کا براہ راست اثر گرمیوں میں دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاؤ پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں میں پانی کی سطح گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف آبپاشی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ پن بجلی منصوبوں کی پیداوار بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔دوسری جانب جموں خطے کے بعض اضلاع میں معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی۔ راجوری میں 46 فیصد، ریاسی میں 40 فیصد جبکہ سامبہ میں 96 فیصد اضافی بارش دیکھی گئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چند علاقوں میں زیادہ بارش پورے خطے میں پیدا ہونے والے آبی دباؤ کو کم نہیں کر سکتی۔ماحولیاتی ماہرین اور آبی وسائل سے وابستہ مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر کو مستقبل میں پانی کی قلت، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے فوری اور طویل مدتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، زیرِ زمین آبی ذخائر کی بحالی، چشموں کے تحفظ اور پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماہرین نے عوامی بیداری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر پانی کے استعمال میں احتیاط نہ برتی گئی تو آنے والے برسوں میں کشمیر کو ایک ایسے آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اثرات معیشت، صحت اور روزمرہ زندگی پر گہرے ہوں گے۔