جاوید رانا نے مینڈھر میں 57.98 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا

جاوید رانا نے مینڈھر میں 57.98 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا

پانی ، آبپاشی اور رابطہ سڑکوں پر توجہ مرکوز ،کہا، ترقی ہر گھر تک پہنچے گی چاہے علاقہ کتنا دُور دراز کیوں نہ ہو

پونچھ//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات وماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے مینڈھر میں 57.98 کروڑ روپے مالیت کے متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھاجن کا مقصد بالخصوص سرحدی اور دُور دراز گائوں میںپینے کے پانی کی فراہمی، آبپاشی کے نظام اور دیہی رابطہ سڑکوں کو مضبوط بنانا ہے۔ان منصوبوں میں یو ٹی کیپکس پروگرام کے تحت 20 واٹر سپلائی سکیمیں شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 51.84 کروڑ روپے ہے۔یہ سکیمیں سب ڈویژن مینڈھر کے غیر محفوظ اور کم سہولیت یافتہ گائوں کو فنکشنل ہاؤس ہولڈ ٹیپ کنکشنز (ایف ایچ ٹی سیز) فراہم کرنے کے لئے بنائی کی گئی ہیںتاکہ ہزاروں رہائشیوں کے لئے پینے کے محفوظ اور قابل اعتماد پانی تک رَسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔اِس کے علاوہ 3.62 کروڑ مالیت کے آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کے منصوبوں کا آغاز کیاگیا جن کا مقصد علاقے میں پانی کے انتظامی ڈھانچے کو جدید اور مضبوط بنانا ہے۔چترال نالہ پر 2.52 کروڑروپے کی تخمینی لاگت سے موٹر ایبل پُل کی تعمیر کا سنگِ بنیاد بھی رکھا گیاجس سے سڑک رابطہ بہتر ہوگا اور عوام کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات تک رَسائی آسان ہوگی۔شروع کئے گئے اہم منصوبوں میں ڈبلیو ایس ایس سلواہ (633.52 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس فیض آباد اعوان (400 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس گورسائی مرحلہ دوم (350 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس کرنا پرات (295 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس جوجگل ننگل گلی (275 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس بنولہ لاہی (250.03 لاکھ روپے)، ڈیپ ڈرلڈ ٹیوب ویل سورس (250 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس کیری کنڈی کانگڑا (225 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس بالاکوٹ سندوٹ (215 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس چاروْن ٹنڈ (205.50 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس بریلہ دھرانہ (210.73 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس نکڑ چترال (169.50 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس پتھان تیر (150 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس کنڈ منجھاری (145.50 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس بھیسیاں والی چکلی دھرانہ (99 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس کسبلاری (285 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس ساگر بلہار لوئر دیوتا (275 لاکھ روپے) اور ڈبلیو ایس ایس پراوا دھراتی پنجانی (275 لاکھ روپے) شامل ہیں۔وزیر موصوف نے مقامی باشندوں، عوامی نمائندوں اور سینئر اَفسران کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے مساوی اور جامع ترقی کے عزم کا اعادہ کیا بالخصوص ان سرحدی اور دُور افتادہ علاقوں کے لئے جو طویل عرصے سے بنیادی سہولیات سے محروم رہے ہیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ پینے کے صاف پانی تک رَسائی ، مؤثر آبپاشی اور بہتر رابطہ سڑکوں تک رسائی عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور دیرپا سماجی و اِقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں۔وزیر جل شکتی نے کہا،’’یہ منصوبے محض بنیادی ڈھانچے کے کام نہیں ہیںبلکہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترقی ہر گھر، ہر کھیت اور ہر گوشے تک پہنچے، چاہے وہ علاقہ کتنا ہی دور کیوں نہ ہو۔‘‘اُنہوں نے پانی کے ذِمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کے وسائل کا تحفظ اور مؤثر اِستعمال بھی بے حد ضروری ہے۔
جاوید رانانے کہا،’’پانی فراہم کرنا صرف آدھا کام ہے، اس کا تحفظ اور درست انتظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بچایا گیا پانی دراصل حاصل کیا گیا پانی ہے اور ہر کمیونٹی کو اس بنیادی ڈھانچے کو مشترکہ عوامی اثاثہ سمجھنا چاہیے۔‘‘اُنہوںنے عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ تمام منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کئے جائیں اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اُنہوں نے مسلسل نگرانی اور جوابدہی پر بھی زور دیا تاکہ ان سکیموں کے ثمرات بغیر کسی تاخیر کے عوام تک پہنچ سکیں۔وزیر موصوف نے آبپاشی منصوبوں بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نہروں اور کوہلوں کی جدید کاری سے کسانوں کو زرعی پیداوار بڑھانے، پانی کے نقصانات کو کم کرنے اور آبپاشی کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے بچائو کے اَقدامات شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب کے دوران زرعی زمینوں اور رہائشی علاقوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔وزیر جل شکتی نے رابطہ سڑکوں کے منصوبے کے تحت ایس کے روڈ پر چترال نالہ کے اوپر 60 میٹر (2×30 میٹر سپین) سنگل لین پلیٹ گرڈر موٹر ایبل پُل کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا۔یہ پل تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) محکمہ کی جانب سے برج سیکٹر پرمننٹ ریسٹوریشن پروگرام 2025-26 کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے علاقے میں قابل رَسائی حد تک بہتر ہونے کی اُمید ہے۔وزیر موصوف نے پُل منصوبے کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے رانا نے کہا کہ چترال کے رہائشی مناسب موٹر ایبل کراسنگ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ،’’یہ پُل نہ صرف مقامی لوگوں کے روزمرہ سفر کو آسان بنائے گا بلکہ اقتصادی سرگرمیوں کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا، صحت اور تعلیم تک بروقت رسائی یقینی بنائے گا اور اس دور افتادہ علاقے کو مینڈھر کے دیگر حصوں سے مضبوطی کے ساتھ جوڑے گا۔‘‘ وز یر جاوید رانا نے شروع کئے گئے بڑے منصوبوں میں ایچ ای ڈویڑن مینڈھر دفتر کمپلیکس بشمول اری گیشن سب ڈویژن مینڈھرکی تعمیر کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ یہ نئی عمارت اِدارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ پانی کی فراہمی اور آبپاشی منصوبوں کی منصوبہ بندی، نگرانی اور عمل درآمد کو مزید مؤثر بنائے گی۔تقریب میں جل شکتی محکمہ، ار ی گیشن و فلڈ کنٹرول محکمہ، ضلعی اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران، مقامی نمائندوں اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔