غیر معیاری گوشت، ملاوٹی دودھ اور گندگی پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ
سرینگر//یو این ایس//جموں و کشمیر حکومت نے عوام کو ملاوٹ شدہ اور غیر صحت بخش خوراک سے بچانے کیلئے ایک وسیع اور سخت نگرانی نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب قصاب خانوں، ہوٹلوں، بیکریوں، دودھ فروش مراکز، مچھلی و مرغی دکانوں اور دیگر فوڈ کاروباری اداروں کی مسلسل اور مشترکہ چیکنگ کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ عوامی صحت کو درپیش بڑھتے خطرات پر قابو پانا اور خوراک کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔یو این ایس کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، گوشت اور دودھ میں ملاوٹ، غیر معیاری اشیائے خوردنی کی فروخت اور صفائی کے ناقص انتظامات کے خلاف اب مربوط کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ اس مقصد کیلئے ضلع، تحصیل اور بلاک سطح پر مشترکہ انفورسمنٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت، فوڈ سیفٹی، لیگل میٹرولوجی اور میونسپل اداروں کے افسران شامل ہوں گے۔حکام کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران گوشت، دودھ اور دیگر اشیائے خوردنی میں ملاوٹ، ناقص صفائی اور غیر قانونی فروخت کے متعدد معاملات سامنے آنے کے بعد حکومت نے یہ سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ عوامی سطح پر بھی غیر معیاری خوراک اور غیر صحت بخش ماحول میں فروخت ہونے والی اشیا پر تشویش بڑھ رہی تھی۔جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت جاری گورنمنٹ آرڈر کے مطابق ڈپٹی کمشنر ضلعی سطح کی ٹیموں کی سربراہی کریں گے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر فوڈ سیفٹی ممبر سیکریٹری کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ ان ٹیموں میں چیف میڈیکل آفیسر، پولیس حکام، لیگل میٹرولوجی افسران اور میونسپل نمائندے بھی شامل رہیں گے۔حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریستورانوں، قصاب خانوں، بیکریوں، دودھ فروش مراکز اور دیگر فوڈ کاروباری اداروں کے لائسنس، صفائی ستھرائی، اسٹوریج اور فوڈ سیفٹی اصولوں کی سختی سے جانچ کریں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق رکاری احکامات میں ذبح خانوں کی خصوصی نگرانی پر زور دیا گیا ہے۔ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ گوشت کی ہینڈلنگ کے دوران دستانوں کا استعمال، صاف ستھرے آلات، محفوظ اسٹوریج اور حفظانِ صحت کے دیگر اصولوں پر سختی سے عمل کرایا جائے۔ اس کے علاوہ سری پائے اور جانوروں کے دیگر اجزا کو کھلے یا غیر صحت بخش ماحول میں فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔حکام کو یہ یقینی بنانے کیلئے بھی کہا گیا ہے کہ فروخت کیلئے رکھا گیا گوشت گردوغبار، مکھیوں، آلودگی اور گاڑیوں کے دھوئیں سے محفوظ رہے۔ اسی طرح مچھلی اور مرغی فروخت کرنے والی دکانوں کی بھی خصوصی چیکنگ کی جائے گی تاکہ لائسنسنگ اور صفائی کے معیار کا جائزہ لیا جا سکے۔دوسری جانب دودھ اور دودھ سے تیار مصنوعات کی اچانک سیمپلنگ بھی شروع کی جا رہی ہے۔ حکام ان مصنوعات کے نمونے جمع کرکے لیبارٹریوں میں جانچ کیلئے بھیجیں گے تاکہ ملاوٹ، کیمیکلز یا غیر معیاری اجزا کی موجودگی کی نشاندہی ہو سکے۔حکومت نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ مشترکہ چیکنگ مہم سات دن کے اندر شروع کی جائے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ملاوٹ کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئے گی بلکہ فوڈ کاروباری اداروں کو بھی صفائی اور معیار برقرار رکھنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔عوامی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں بڑھتی ملاوٹ اور غیر صحت بخش خوراک کے رجحان کو روکنے کیلئے ایسے سخت اقدامات وقت کی اہم ضرورت تھے۔










