مشکل حالات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ میچوں کی سیریز کے دو مقابلے جیت چکی ہندوستانی ٹیم منگل کو ہنری اسٹیڈیم میں ہونے والے تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں جیت درج کرکے سیریز اپنے نام کرنے کے ارادے سے اترے گی۔ وہیں میزبان نیوزی لینڈ پر سیریز میں واپسی کرنے کا دباؤ ہوگا۔ ہندوستان کو پہلی جیت ۲۲۶؍ رن کا کامیابی کے ساتھ تعاقب کرتے ہوئے ملی، جو مردوں کی بین الاقوامی ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں ہندوستان کا سب سے بڑا کامیاب تعاقب ہے۔ سنجو سیمسن کے ۶۷؍ رن نے اننگز کو رفتار دی، جبکہ شریاس ایّر اور نمن دھیر کی کارکردگی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مطلوبہ رن ریٹ اتنا زیادہ نہ ہوجائے کہ اسے حاصل کرنا ناممکن ہو جائے۔ یہ ہندوستان کی بلے بازی کی گہرائی کا شاندار مظاہرہ تھا، ساتھ ہی اس بات کی یاد دہانی بھی کہ کامیاب تعاقب کے لیے صرف ایک بلے باز نہیں بلکہ کئی کھلاڑیوں کو ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے۔ دوسرا مقابلہ ایک مختلف طرح کا امتحان لے کر آیا۔ ۱۸۱؍ رن کا تعاقب کرتے ہوئے ہندوستان کے پانچ وکٹ محض ۷۰؍ رن پر گر گئے تھے اور ایسا لگنے لگا تھا کہ ہندوستان کی برتری ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ سینٹنر کی اسپن کے ذریعے نیوزی لینڈ نے دباؤ بنا دیا تھا اور ہندوستانی بالائی ترتیب کے بلے باز مضبوط بنیاد رکھنے میں ناکام رہے تھے۔ پھر تلک ورما نے ۲۶؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۵۱؍ رن بنائے، جس میں نتیش کمار ریڈی نے ان کا اچھا ساتھ دیا اور اس شراکت نے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔
ساتویں وکٹ کے لیے ان کی ۶۹؍ رن کی ناٹ آؤٹ شراکت نے دکھا دیا کہ ہندوستان میں مشکل حالات سے نکلنے کا حوصلہ موجود ہے۔ نمن دھیر کے تیز رفتار ۳۱؍ رن نے بھی اس تعاقب کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کیا۔ نیوزی لینڈ کے لیے سبق بالکل واضح ہے، وکٹ لینا تو صرف آدھا کام ہے۔ حریف ٹیم کو دوبارہ سنبھلنے سے روکنا بھی ضروری ہے۔ ہندوستان کے پانچ وکٹ گرنے کے باوجود اسے کامیابی حاصل کرنے دینا میزبان ٹیم کے لیے کافی مایوس کن رہا ہوگا۔
میزبان ٹیم کو کھلاڑیوں کی دستیابی سے متعلق مسائل کا بھی سامنا ہے۔ تجربہ کار تیز گیند باز میٹ ہنری باقی ماندہ ٹی ۲۰؍ میچوں سے باہر ہوگئے ہیں، جبکہ لوکی فرگیوسن ویلنگٹن میں ہونے والے میچ میں نہیں کھیل سکیں گے۔ ان کی غیر موجودگی سے نیوزی لینڈ کے تیز گیند بازی کے شعبے میں تجربے اور قابلِ اعتماد متبادل کھلاڑیوں کی کمی ہوگئی ہے اور ایسے وقت میں جب ٹیم مزید کسی دھچکے کو برداشت نہیں کرسکتی، یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ہندوستان کے سامنے بھی ٹیم کے انتخاب کے تعلق سے ایک چیلنج ہے۔ وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن دائیں پیر کے پٹھوں میں کھنچاؤ کے باعث تیسرے میچ سے باہر ہوگئے ہیں۔ اس وجہ سے ٹیم انتظامیہ کو اپنی بالائی ترتیب کے بلے بازوں کے امتزاج پر دوبارہ غور کرنا پڑ رہا ہے۔ کمار کشاگرا متبادل کھلاڑی کے طور پر ٹیم کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے باوجود مہمان ٹیم اپنے درمیانی ترتیب کے بلے بازوں کی فارم سے اعتماد حاصل کرسکتی ہے۔ تلک نے دکھایا ہے کہ وہ اننگز پر اپنا کنٹرول کھوئے بغیر تیزی سے رن بنا سکتے ہیں، جبکہ نتیش بلے بازی میں گہرائی فراہم کرنے کے ساتھ تیز گیند بازی کا ایک کارآمد متبادل بھی پیش کرتے ہیں۔ ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں اس طرح کی لچک بہت اہم ہوتی ہے، جہاں ایک ہی اوور میچ کا رخ بدل سکتا ہے۔










