جنگوں میں خواتین اور لڑکیوں کی اموات میں دو گنا اضافہ، یو این رپورٹ

جنگوں میں خواتین اور لڑکیوں کی اموات میں دو گنا اضافہ، یو این رپورٹ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ’خواتین، امن اور سلامتی‘ کے موضوع پر سالانہ رپورٹ کے مطابق مسلح تنازعات والے علاقوں میں ہر روز کم از کم 25 خواتین اور لڑکیاں ہلاک ہو رہی ہیں۔ جیسے جیسے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے جنسی تشدد کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امن مذاکرات میں خواتین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس وقت تقریباً پچہتر کروڑ خواتین اور لڑکیاں ایسے علاقوں کے 50 کلومیٹر کے دائرے میں رہ رہی ہیں جہاں فعال تنازعات جاری ہیں۔ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں چار کروڑ زیادہ ہے اور 1990 کے بعد سے اب تک کی سب سے بلند سطح ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے، ’یو این ویمن‘ کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیاراڈزائی گمبونزونڈا نے کہا کہ جنگیں خواتین اور لڑکیوں کے لیے مزید جان لیوا ہوتی جا رہی ہیں اور دنیا ایسا ہونے دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دروازے پر دستک دیتی جنگ کوئی ایسی چیز نہیں جسے وہ اپنی سکرین پر سکرول کر کے نظر انداز کر سکتے ہیں۔
بموں کی گھن گرج سے آگے
جنگ کی لپیٹ میں آنے والی خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہیں۔ سال 2025 میں اقوام متحدہ نے تنازعات سے منسلک جنسی تشدد کے 9,788 واقعات کی تصدیق کی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ اور سال 2022 کے مقابلے میں تقریباً چار گنا ہے۔
نیاراڈزائی گمبونزونڈا نے بتایا کہ تنازعات سے متاثرہ ملک میں حاملہ خاتون کے دورانِ زچگی یا اس سے متعلقہ وجوہات کی بنا پر ہلاک ہونے کا امکان، کسی پرامن اور مستحکم ملک کی خاتون کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔
غزہ میں ہسپتالوں اور زچگی کی سہولیات کی تباہی، نیز ضروری اشیاء تک رسائی ختم ہو جانے کے باعث زندہ بچوں کی پیدائش میں 41 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ حمل گرنے کے واقعات میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جنگ خواتین کو مزید گہری غربت کی طرف بھی دھکیلتی ہے۔ تقریباً سترہ کروڑ خواتین اور لڑکیاں تنازعات والے علاقوں اور انتہائی غربت دونوں میں رہتی ہیں، جو کہ یومیہ تین ڈالر سے بھی کم پر زندہ رہتی ہیں۔ جبکہ تنازعات سے متاثرہ ممالک میں وہ مردوں اور لڑکوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ گھنٹے بلا معاوضہ دیکھ بھال کے کام پر گزارتی ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبادی والے علاقوں میں ڈرون اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا استعمال مزید حفاظتی خدشات کو جنم دیتا ہے۔ سکولوں، بازاروں اور ہسپتالوں پر ان حملے کے خدشات پہلے سے کہیں بڑھ گئے ہیں۔
امن عمل سے خارج
تنازعات سے غیر متناسب طور پر متاثر ہونے کے باوجود خواتین بڑی حد تک لڑائی کو ختم کرنے کی کوششوں سے محروم ہیں۔ سال 2025 میں وہ 57 امن عملوں میں صرف پانچ فیصد مذاکرات کاروں پر مشتمل تھیں جبکہ جنگ بندی کے 13 معاہدوں میں سے ایک بھی واضح طور پر تنازعات سے جڑے جنسی تشدد کی ممانعت نہیں کرتا تھا۔
عالمی فوجی اخراجات گزشتہ سال ریکارڈ 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ بحران سے متاثرہ ماحول میں خواتین کی 40 فیصد تنظیمیں مالی امداد کی شدید کمی کی وجہ سے اگلے سال کسی بھی وقت عارضی یا مستقل طور پر بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باحوس نے کہا ہے کہ عشروں میں کسی بھی موڑ سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں جنگوں میں پھنسی ہوئی ہیں۔ پھر بھی فوجی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ترقیاتی امداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یو این ویمن خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ، امن و سلامتی میں ان کی بامعنی شرکت، خواتین کی زیر قیادت قیام امن میں پائیدار سرمایہ کاری، اور استثنیٰ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔