بیلگاوی/یواین آئی// کرناٹک کے کسانوں نے گنے کی امدادی قیمت 5,500 روپے فی ٹن کرنے اور چینی کی کم از کم فروخت کی قیمت میں اضافے کے مطالبے پر اپنی تحریک تیز کر دی ہے ۔بیلگاوی ضلع کے گورلاپور میں کسانوں کا احتجاج چہارشنبہ کے روز مسلسل چوتھے دن میں داخل ہوگیا۔ دھرنے پر بیٹھے کسانوں نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ریاست بھر کی چینی ملوں کے گوداموں کو مقفل کرنے اور وہاں سے چینی کی ترسیل روکنے کی واضح دھمکی دی ہے ۔ کسان اپنی آئندہ حکمت عملی طے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔کرناٹک اسٹیٹ رائت سنگھا اور ہسیرو سینا کے ریاستی صدر چنپا پوجیری نے گنے کی قیمت کے تنازعہکو حل کرنے کے لیے مرکز اور چینی ملوں پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے ریاست بھر کے کسانوں سے مجوزہ احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔اس تنازعہ کا بنیادی نکتہ چینی کی کم از کم فروخت کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ ہے ۔ کسانوں کا استدلال ہے کہ اس اقدام سے چینی ملوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور وہ کسانوں کو فی ٹن گنے کے لیے 5,500 روپے ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ پوجیری نے مرکزی کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ 29 اکتوبر سے کرناٹک کے دورے کے دوران زمینی صورت حال کا جائزہ لینے اور کسانوں کے مسائل سننے کے لیے اپنے دورے کے پروگرام میں اس ضلع کو بھی شامل کرے ۔انہوں نے مرکزی وزیر برائے امور صارفین و خوراک پرہلاد جوشی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ چینی ملوں کے منتظمین کے ساتھ ایک اجلاس طلب کریں اور اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ چینی کی قیمت 5,000 روپے فی کوئنٹل سے کم نہیں ہونے دی جائے گی۔عالمی سطح پر چینی کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کا فائدہ ملکی منڈی میں قیمتوں کو بھی ملنا چاہیے ۔ کسانوں کو گنے کی مناسب قیمت دلانے کے لیے چینی ملوں کی آمدنی میں اضافہ ضروری ہے ۔تنازع کو مزید شدت دینے والی وارننگ دیتے ہوئے مسٹر پوجیری نے کہا کہ اگر مجوزہ تالہ بندی مہم کے بعد چینی ملوں نے رات کے وقت اپنے گوداموں سے چینی کا ذخیرہ باہر نکالنے کی کوشش کی تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری خود مل انتظامیہ پر عائد ہوگی۔گنا کسان اپنی فصل کی قیمت کو چینی ملوں کی جانب سے چینی فروخت کرنے کی شرح سے جوڑ رہے ہیں۔ اس صورت حال نے کسانوں اور چینی ملوں کے درمیان سمجھوتہ کرانے کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتوں پر ایک بار پھر دباؤ بڑھا دیا ہے ۔مجوزہ کارروائی سے یہ تنازع گورلاپور کے احتجاج سے آگے بڑھ کر ریاست گیر شکل اختیار کر سکتا ہے










