وہ جنگ جس میں اسرائیل عرب ممالک کو شکست دے کر خطے کی بڑی طاقت بنا

وہ جنگ جس میں اسرائیل عرب ممالک کو شکست دے کر خطے کی بڑی طاقت بنا

ہر دور میں کسی نہ کسی مسلح تصادم یا جنگ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے اور اس کے جواب میں اسرائیل کی جوابی کارروائی نے اس مسئلے کے حل کے امکانات اور مستقبل سے متعلق کئی نئے سوالات جنم دیے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے تنازع کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے جب بھی تاریخ کی جانب دیکھا جائے گا تو اس میں پانچ جون 1967 کو شروع ہونے والی جنگ کا تذکرہ لازمی آئے گا۔ پانچ جون 1967 کو اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ یوں تو صرف چھ دن جاری رہی تھی لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ اور عرب اسرائیل تنازع کے مستقبل کا رخ متعین کیا تھا۔ بعض تاریخ دان اور ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو 1967کی جنگ میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ عرب اسرائیل تنازع کے حل کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی بلکہ اس نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
تاریخ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کے اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی راہ بھی متعین کی اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔
آج خطے کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھا جائے تو ایک بار پھر اس اہم واقعے کے سیاق و سباق اور اس میں حصہ دار بننے والی عالمی طاقتوں کے کردار پر نظر ڈالنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
تاریخی پس منظر
سن 1967کی عرب اسرائیل جنگ وہ تیسرا موقع تھا جب عرب ممالک اور اسرائیل آمنے سامنے آئے تھے۔ اس سے قبل سن 1948 میں عرب اسرائیل جنگ اور 1956 میں مصر کے ساتھ سوئز کینال پر تنازع پیدا ہو چکا تھا۔
تاریخ دانوں کے مطابق، پہلی عالمی جنگ تک فلسطینی علاقے سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھے۔ جنگ کے بعد 1922میں اس وقت کے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے قائم کی گئی عالمی تنظیم ‘لیگ آف نیشنز‘ نے ان علاقوں کو برطانیہ کے حوالے کر دیا تھا۔ اس انتظام کو ’فلسطین مینڈیٹ‘ کا نام دیا گیا تھا اور غزہ کا علاقہ بھی اس میں شامل تھا۔ بعدازاں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے اختتام سے قبل ہی فلسطین مینڈیٹ کے تحت آنے والے علاقوں کو عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔
برطانوی مینڈیٹ 15 مئی 1948 کو ختم ہوا اور اسی دن جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس جنگ کی ابتدا ہی میں پڑوسی عرب ملک مصر کی افواج غزہ میں داخل ہوگئیں۔ البتہ جنگ شدید ہونے کے بعد بہت سے علاقے عربوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔
اقوامِ متحدہ نے عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاست کا جو فارمولا پیش کیا تھا اس میں یروشلم کو متحد رکھنے کے لیے شہر کو اپنی نگرانی میں ایک بین الاقوامی انتظام کے تحت لانے کی تجویز دی تھی۔ لیکن اس فارمولے پر عمل نہیں ہوسکا۔ بلکہ یروشلم کا حصول اس تنازع کا مرکزی نقطہ بن گیا۔
بعد ازاں 1949 میں اردن اور اسرائیل نے شہر کی تقسیم کا ایک بندوبست تسلیم کرلیا جس میں مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ اردن کے زیرِ کنٹرول آگیا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارہ بھی اردن کے پاس ہی تھا۔ مغربی یروشلم اور انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والے شہر کے علاقے ریاستِ اسرائیل کے زیرِ انتظام آگئے۔ اس تقسیم کے باعث مغربی یروشلم میں آباد بہت سے مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بین الاقوامی بحران نے اس وقت جنم لیا جب 26 جولائی 1956 کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہرِ سوئز کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے سے قبل اس اہم آبی گزر گاہ کا انتظام فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ ‘سوئز کینال کمپنی‘ کے پاس تھا۔
مصر کی سوویت یونین سے بڑھتی قربت
دوسری جانب سوویت یونین سے جمال عبدالناصر کی قربت بڑھ رہی تھی۔ سن 1955 میں ناصر نے کمیونسٹ ملک چیکو سلوواکیہ سے اسلحے کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ دراصل سوویت یونین کے ساتھ ہی تھا۔
اس کے ساتھ ہی سوویت یونین سے تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے ناصر نے معاہدۂ بغداد میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا ’سینٹو‘ کہلایا۔
امریکہ کی مدد سے قائم ہونے والا یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں سوویت یونین کے بڑھتے قدم روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں ترکی، عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ بھی شامل تھے۔مصر کے ساتھ 1955 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سوویت یونین کو مشرقِ وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔جمال عبدالناصر کے سوویت یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کے منصوبے کے لیے مصر کو وعدے کے مطابق مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ جمال عبدالناصر کے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوسکتی تھی۔ اس لیے ردِ عمل میں جمال عبدالناصر نے نہر سوئز پر مارشل لا نافذ کر کے سوئز کینال کمپنی کا انتظام حکومت کی تحویل میں لے لیا۔ اس کمپنی میں فرانس اور برطانیہ کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ جمال نے اس اقدام کے ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ نہرِ سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے اسوان ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم بھی وصول کی جائے گی۔
اب فرانس اور برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں جمال عبدالناصر نہرِ سوئز کو بند ہی نہ کر دیں۔ اس صورت میں خلیجِ فارس سے مغربی یورپ کو تیل کی فراہمی رک سکتی تھی۔
اس بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں تو تاریخ دانوں کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے نہرِ سوئز سے ملحقہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے اور جمال عبدالناصر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔ جمال عبدالناصر کے خلاف اس منصوبے میں ساتھ دینے کے لیے انہیں اسرائیل کی صورت میں ایک علاقائی اتحادی پہلے ہی میسر تھا کیوں کہ نہرِ سوئز سے متعلق اقدام سے قبل ہی ناصر نے اسرائیل کے لیے آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔ آبنائے تیران خلیجِ عقبہ کے ذریعے اسرائیل کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے اور اسرائیل کے لیے تزویراتی اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل بحری راستہ ہے۔ اس کے علاوہ 1955 سے 1956 کے دوران مصر کے حمایت یافتہ کمانڈو اسرائیلی علاقوں میں کارروائیاں بھی کر رہے تھے۔
اسرائیل کی نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی
اسرائیل نے 10 اکتوبر 1956 کو مصر پر حملہ کرکے نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ منصوبے کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل اور مصری افواج سے نہرِ سوئز کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔امریکہ کو خدشہ تھا کہ فرانس اور برطانیہ کے براہِ راست اس تنازع کا حصہ بننے سے سوویت یونین کو بھی خطے میں مداخلت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد 22 دسمبر کو برطانیہ اور فرانس نے اپنی افواج کو واپس بلالیا اور مارچ 1957 میں اسرائیلی فوج بھی واپس چلی گئی۔اس تنازع کے بعد جمال عبدالناصر عرب اور مصری قوم پرستوں کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ اسرائیل کو نہرِ سوئز کے استعمال کا حق تو نہ مل سکا لیکن اس کے لیے آبنائے تیران کا بحری راستہ کھل گیا جب کہ برطانیہ اور فرانس کا مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ بہت محدود ہوگیا۔
چھ روزہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟
نہرِ سوئز کے بحران کے بعد اسرائیل اور مصر کی سرحد پر واقع جزیرہ نما سینا میں اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس تعینات کر دی گئی تھی۔سوئز بحران کے بعد عرب دنیا میں مصر ایک قائد کے طور پر سامنے آیا اور 1958 میں اس نے شام کے ساتھ مل کر ‘یونائیٹڈ عرب ری پبلک’ قائم کرلی۔ لیکن فیصلہ سازی میں مصر کو حاصل برتری نے شامیوں میں شکایات پیدا کیں اور یہ اتحاد ستمبر 1961 میں ختم ہوگیا۔ البتہ مصر نے 1971 تک یہ نام برقرار رکھا۔ دوسری جانب شام، لبنان اور اُردن میں موجود فلسطینی گوریلا گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور انہوں نے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ شام کی جانب سے بھی فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ نومبر 1966 کو اسرائیل نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں السموع پر فضائی حملہ کیا۔ اس وقت مغربی کنارہ اردن کے زیرِ انتظام تھا۔ اس حملے میں 18 ہلاکتیں ہوئیں اور 54 افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران اسرائیلی سرحد پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی گوریلا کارروائیاں بڑھتی جارہی تھیں جنہیں شام کی حمایت حاصل تھی۔ ان جھڑپوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اپریل 1967 میں اسرائیل اور شام کی فوجوں میں لڑائی شروع ہو گئی جس میں اسرائیلی فضائیہ نے شام کے چھ ’مِگ‘ جنگی طیارے گرا دیے۔
اسی دوران مئی میں سوویت یونین کی بعض خفیہ رپورٹس میں نشان دہی کی گئی کہ اسرائیل شام کے خلاف بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹس درست نہیں تھیں لیکن ان کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ عرب دنیا میں خود کو نمایاں رکھنے کے لیے جمال عبدالناصر اسرائیل سے متعلق جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ اس لیے مصر اور دیگر عرب ممالک میں ان سے بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی تھیں۔ لیکن اسرائیل کے مغربی کنارے پر حملے اور شام کے جنگی طیارے گرانے کے بعد وہ اُردن اور شام کی مدد کے لیے میدان میں نہیں اترے جس کی وجہ سے انہیں عرب دنیا میں تنقید کا سامنا تھا۔ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ وہ مصر اور اسرائیل کی سرحد پر سینا کے علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔