قدیمی مقامی لوگوں کے امور پر اقوام متحدہ کے مستقل فورم کے زیراہتمام اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ایمیزون سے آسٹریلیا اور افریقہ سے قطب شمالی تک، یہ لوگ فطرت کے عظیم محافظ، حیاتیاتی تنوع کی جیتی جاگتی لائبریری اور ماحولیاتی اقدامات کے علمبردار ہیں اور اب عالمی فیصلوں میں ان کی شرکت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک پر زور دیا کہ:
قدیمی مقامی لوگوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلامیے میں کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔
اقوام متحدہ کا نظام اور رکن ممالک ہر سطح پر ان لوگوں کی بامعنی اور براہ راست شمولیت کو یقینی بنائیں جس کے لیے مناسب مالی وسائل بھی فراہم کیے جائیں۔
قدیمی مقامی لوگوں ان کے رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو تحفظ دیا جائے اور ان کے خلاف تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔
ان اقوام کی خواتین اور لڑکیوں کو ایسے فیصلوں میں بھرپور شرکت دی جائے جو ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ان کے علم اور قیادت کا مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ہے۔
مسلح تنازعات کے اثرات
سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ قدیمی مقامی لوگوں کے حقوق ان کی زمین، پانی، زبان، ثقافت اور ماحولیاتی نظام سے جدا نہیں اور جب ان میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچتا ہے تو سب متاثر ہوتے ہیں۔
یہ بات خاص طور پر مسلح تنازعات کے دوران درست ثابت ہوتی ہے جب آبائی زمینوں سے بے دخلی، روزگار کا نقصان، خوراک کی قلت، مقدس مقامات کی تباہی اور ثقافتی روایات میں خلل ان لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
جنرل اسمبلی کے ہال میں منعقدہ اس اجلاس میں مختلف قدیمی مقامی اقوام کے روایتی لباس پہنے مندوبین نے کینیڈا سے تعلق رکھنے والی انوئٹ رہنما الوکی کوتائرک کو متفقہ طور پر دوبارہ فورم کی سربراہ منتخب کیا۔
طبی عدم مساوات
اگرچہ قدیمی مقامی اقوام دنیا کی کل آبادی کا تقریباً چھ فیصد ہیں لیکن انتہائی غربت میں زندگی گزارنے والوں میں ان کا حصہ تقریباً 19 فیصد ہے۔ یہ لوگ اب بھی امتیازی سلوک، پسماندگی اور محرومی کا شکار ہیں۔
الوکی کوتائرک نے اپنے خطاب میں صحت سے متعلق عدم مساوات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی رہنے والے ایسے لوگوں کو اوسط عمر میں کمی، دائمی بیماریوں کے خطرے اور خودکشی کی بلند شرح جیسے مسائل کا سامنا دیگر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قدیمی مقامی باشندوں کی زمینوں، علاقوں اور آبی وسائل کی تباہی براہ راست ان کی صحت میں خرابی کا سبب بنتی ہے جبکہ آج کل یہ لوگ پارے کی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بڑھتے طبی مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
صحت و فلاح کا وسیع تر تصور
الوکی کوتائرک نے وضاحت کی کہ قدیمی مقامی اقوام کے لیے صحت اور فلاح صرف جسمانی یا ذہنی صحت کا نام نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی ثقافت، روحانیت، زبانوں، زمین اور ماحول سے جڑی ہوئی ہے۔
صحت کے نظام اور اس کی سمجھ بوجھ کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد ہونا چاہیے تاکہ اس باہمی تعلق کو تسلیم کیا جائے اور طبی فیصلوں میں ان لوگوں کے طرزفکر اور خودمختار طریقہ ہائے کار کو شامل کیا جا سکے۔
عالمی برادری کی اخلاقی ناکامی
جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمینوں کے نقصان، بے دخلی اور محرومی کے باعث مقامی لوگوں میں قابل علاج بیماریوں اور غذائی قلت کی شرح زیادہ ہے جبکہ ان کی اوسط عمر عام آبادی سے 20 سال تک کم ہو سکتی ہے۔
قدیمی مقامی خواتین کو خاص طور پر سنگین خطرات لاحق ہیں جن میں زچگی اور بچوں کی اموات کی بلند شرح بھی شامل ہے۔ یہ اخلاقی اور ترقیاتی ناکامی ہے۔
مقامی اقوام کی صحت اور فلاح نہ صرف پائیدار ترقیاتی اہداف کی جانب دنیا کی پیش رفت کا پیمانہ ہے بلکہ ان کے حصول کی شرط بھی ہے۔










