darakshan andrabi

وقف بورڈ کی مساجد میں جمعہ کے خطبے:

یکساں موضوعات مقرر کرنے کا کوئی حکم نہیں/درخشاں اندرابی

سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے واضح کیا ہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے اس کے زیر انتظام مساجد میں جمعہ کے خطبوں کے لیے یکساں موضوعات لازمی قرار دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی علما اور خطیب اپنے خطبوں کے موضوعات کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے درخشاں اندرابی نے کہا کہ نہ وہ خود اور نہ ہی وقف بورڈ کا کوئی افسر خطبوں کے موضوعات طے کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سلسلے میں فیصلہ کرنے کا اختیار آزاد مذہبی علما اور خطیبوں کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کو دور کرنے کے لیے مذہبی علما اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج منشیات کے مسئلے پر بات کرنے کی ضرورت ہے تو اس موضوع کو اٹھایا جانا چاہیے، اسی طرح لڑکیوں کے مسائل، شادی بیاہ میں مشکلات، بچوں کی خودکشی اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ جیسے معاملات پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔وقف بورڈ کی چیئرپرسن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جمعہ کے خطبوں کے لیے مشترکہ موضوعات لازمی قرار دینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بنیادی کمیٹی میں مذہبی علما شامل ہوں گے اور وہ خود اس کمیٹی کا حصہ نہیں ہوں گی۔درخشاں اندرابی نے کہا کہ وہ کوئی مذہبی معلم نہیں ہیں اور خطبوں کے موضوعات اور ان کے طریقہ کار کا فیصلہ علما خود کریں گے۔ ان کے مطابق، مذہبی علما اپنی صوابدید کے مطابق اپنے انداز میں خطبے دے سکتے ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ سے وابستہ مذہبی علما معاشرے میں موجود برائیوں کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جس طرح ڈاکٹر، انجینئر اور اساتذہ اپنے اپنے شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، اسی طرح مذہبی علما بھی سماجی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے مسلم مذہبی معاملات میں بی جے پی کی مداخلت کے الزام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے درخشاں اندرابی نے سوال اٹھایا کہ آخر بی جے پی نے کہاں مداخلت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بی جے پی سے تعلق پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے وقف بورڈ کے کام کا دفاع کیا۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر لوگوں کو درپیش مسائل پر توجہ دیں اور معاشرے میں موجود برائیوں کے خاتمے کی کوششوں کی مخالفت کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے اپنا تعاون پیش کریں۔واضح رہے کہ وقف بورڈ سے وابستہ مساجد اور مذہبی اداروں میں جمعہ کے خطبوں کے لیے مشترکہ موضوعات متعارف کرانے کی تجویز پر تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور متحدہ مجلس علما سمیت مختلف سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔