editorial

سردیوں میں بجلی بحران کا خدشہ

جموں و کشمیر کا بجلی ترسیلی نظام ایک بار پھر موسم سرما کے دوران شدید دباؤ کا سامنا کرنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ شمالی علاقائی پاور کمیٹی (این آر پی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے تو گزشتہ برس وادی کشمیر میں پیدا ہونے والا کم وولٹیج کا مسئلہ رواں موسم سرما میں بھی شدت اختیار کرسکتا ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی انتباہ نہیں بلکہ ایک ایسے بنیادی مسئلے کی نشاندہی ہے جس کا براہِ راست تعلق عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، گھریلو ضروریات اور بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی سے ہے۔
سال 2026-27 کے موسم سرما کی تیاریوں سے متعلق این آر پی سی کی جائزہ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں سردیوں کے دوران بجلی کی طلب تقریباً 3200 میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی۔ بالخصوص صبح اور رات کے اوقات میں بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ اسی دوران پن بجلی کی پیداوار میں کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ نتیجتاً بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الریاستی ترسیلی نیٹ ورک پر انحصار بڑھ گیا، جس کے باعث وادی کے متعدد اہم گرڈ اسٹیشنوں پر وولٹیج کی سطح متاثر ہوئی۔
رپورٹ میں درج اعداد و شمار تشویش ناک ہیں۔ چار سو کلو وولٹ کے ٹرانسمیشن بسوں پر وولٹیج گر کر 347 کلو وولٹ جبکہ 220 کلو وولٹ کے بسوں پر 178 کلو وولٹ تک پہنچ گیا، جو مقررہ حدود سے کم تھا۔ این آر پی سی کے مطابق وادی میں ہر موسم سرما میں کم وولٹیج کا مسئلہ دوبارہ سامنے آتا ہے اور رواں سال بھی بجلی کی طلب گزشتہ برس کے برابر یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کی امید کم ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب ہر سال سردیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے اور پن بجلی کی پیداوار گھٹنے کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو متعلقہ ادارے مستقل حل تلاش کرنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟ کیا موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی ہنگامی اقدامات کرنا کافی سمجھ لیا گیا ہے، یا بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ کم وولٹیج کا مسئلہ صرف بجلی کی فراہمی میں کمی تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھریلو برقی آلات، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی سہولتوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سردیوں میں جب بجلی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے، اسی وقت اس کے معیار اور تسلسل میں خرابی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔