وزیر داخلہ نے کٹھوعہ میں سرحدی علاقوں کا دورہ کیا ، فورسز اہلکاروں کے ساتھ بات کی

وزیر داخلہ نے کٹھوعہ میں سرحدی علاقوں کا دورہ کیا ، فورسز اہلکاروں کے ساتھ بات کی

جموں کشمیر کو جلد ہی ملٹنسی سے پاک کیا جائے گا، اعلیحدگی پسند لیڈران کی قومی دھارے میں شمولیت نیک شگون ۔ شاہ

سرینگر//وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد بڑے پیمانے پر ترقی کے فیصلے اورترقیاتی عمل امن اور خوشحالی دشمن قوتوں کو ہضم نہیں ہوئے اور انہوں نے جموں صوبے کے سرحدی علاقوں میں ’’تشدد ‘‘ کو ہوا دی ہے لیکن جلد ہی سیکورٹی فورسز صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیں گی۔ جموں کشمیر کے اپنے تین روزہ دورے کے دوسرے روز وزیر داخلہ امت شاہ نے کٹھوعہ میں بی ایس ایف کے جوانوں سے ملاقات کی اور ملک کی سرحد کی حفاظت میں ان کے تعاون کی تعریف کی۔انہوںنے کہاکہ جموں کشمیر جلد ہی ملٹنسی سے پاک ہوگی اور اس کیلئے فوج ، فورسز ، جموں کشمیر پولیس بہتر ڈھنگ سے کام کررہی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے آج کٹھوعہ ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع بی ایس ایف چوکی کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے بی ایس ایف کے جوانوں اور مشکل حالات میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے بی ایس ایف کے جوانوں کی جدوجہد کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فوجیوں کے حوصلے اور لگن کی تعریف کی اور ان کے تعاون کو سب سے زیادہ عزت دی۔ضلع میں پاک بھارت سرحد کے ساتھ آگے کے علاقوں کا دورہ کیا اور کہا کہ حکومت سرحدی سیکورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی اقدامات کو بروئے کار لایا جائے، خاص طور پر زیر زمین سرحد پار سرنگوں کا پتہ لگانے کے لیے۔ شاہ نے کہا کہ یہ نئی ٹیکنالوجی سرحدی سیکورٹی فورسز کو زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے کی اجازت دے گی۔ذرائع کے مطابق امت شاہ نے کہا کہ تمام سیکورٹی ایجنسیاں عسکریت پسندوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف ہر ممکن کوشش کریں گی اور مرکزی اور جموں و کشمیر حکومتیں وادی کشمیر میں عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ یو ٹی کو امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ جموں و کشمیر سابقہ ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے بے مثال ترقی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ بہت سے نئے منصوبے سامنے آئے ہیں۔مرکزی طور پر سپانسر شدہ اسکیموں کو لاگو کیا جا رہا ہے اور ان کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے امت شاہ نے بتایا اور کہا کہ یہ سب کچھ جموں و کشمیر کے اندر اور سرحد کے اس پار کچھ طاقتوں کو ہضم نہیں ہو رہا ہے جو نہیں چاہتے کہ جموں و کشمیر ترقی کرے،تاہم انہوں نے بتایا، مرکزی اور جموں و کشمیر حکومتیں تشدد کے چکر کو روکنے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مکمل امن کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملیٹنٹوں علیحدگی پسندی اور بیرون ملک اور اندرون ملک فنڈنگ کو پہلے ہی زیادہ سے زیادہ حد تک کنٹرول کیا جا چکا ہے اور اس کے باقی ماندہ حصے سے بھی سیکورٹی ایجنسیاں نمٹیں گی۔انہوں نے کہا کہ جموں اور کشمیر کے لوگوں نے محسوس کیا ہے کہ ملٹنسی اچھی نہیں ہے کیونکہ یہ ان کی زندگیوں، کاروبار، سیاحت وغیرہ کو متاثر کرتی ہے۔ لوگ پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ وہ آگے آ رہے ہیں اور ملٹنسی پر قابو پانے میں مدد کر رہے ہیں۔امت شاہ نے کہا کہ آج اعلیحدگی پسند جماعتیں بھی قومی دھارے میں شامل ہورہی ہیں جو کہ ہمارے لئے نیک شگون ہے اور مجوعی طور پر ملک کے حق میں ہے ۔