جموں//وزیر برائے خزانہ ، زراعت ، مائیننگ اینڈ کواپریٹو مسٹر جاوید احمد ڈار نے آج یو ٹی کی مالیاتی پوزیشن ، محصول کی کارکردگی ، اخراجات کے انتظام اور جاری مالیاتی اصلاحات پر تعارفی اور جامع جائیزہ میٹنگ کی صدارت کی ۔ میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ ، ڈائریکٹر جنرل اکاؤنٹس اینڈ ٹریژریز ، ڈائریکٹر جنرل ریسورسز ، ڈائریکٹر جنرل کوڈز ، جوائینٹ ڈائریکٹر کوڈز ، ڈپٹی ڈائریکٹر ریسورسز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں یو ٹی کی مجموعی مالیاتی صورتحال کا تفصیلی جائیزہ لیا گیا جس میں خاص طور پر محصولات کی متحرکی ، اپنے وسائل کی پیداوار کو مضبوط بنانے ، موثر مالیاتی انتظام ، اخراجات کی نگرانی ، قرضوں کے انتظام ، مالیاتی نظام کی ڈیجٹلائیزیشن اور اہم اصلاحاتی اقدامات کے نفاذ پر زور دیا گیا ۔ وزیر خزانہ نے جموں و کشمیر کی آمدنی میں مثبت اضافے پر خوشی کا اظہار کیا جو اکتوبر 2026 تک 13628 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14.8 فیصد کا اضافہ ہے ۔ ٹیکس آمدنی میں 15.2 فیصد جبکہ غیر ٹیکس آمدنی میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، جو آمدنی کی متحرک کاری میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتا ہے ۔ مجموعی طور پر آمدنی میں اکتوبر 2026 کے اختتام تک تقریباً 1751 کرور روپے کا اضافہ ہوا ۔ اجلاس میں جی ایس ٹی وصولیوں میں نمایاں بہتری کا بھی نوٹس لیا گیا جس مین جی ایس ٹی نے آمدنی میں مجموعی اضافے میں خاظر خواہ حصہ ڈالا ۔ آمدنی بڑھانے کے اقدامات ، بشمول جی ایس ٹی ریٹرن کی بہتر تعمیل ، بلنگ کی کارکردگی میں اضافہ ، ڈیلر رجسٹریشن میں اضافہ ، ای اسٹیمپنگ اور شفاف ایکسائز نیلامیوں کو آمدنی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب اہم اقدامات کے طور پر سراہا گیا ۔ مسٹر جاوید ڈار نے مالیاتی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی قرضے کی لاگت کو کم کرنے کیلئے فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کئے گئے مختلف مالیاتی اصلاحات کی تعریف کی ۔ میٹنگ میں پاور سیکٹر کی اصلاحات کے مثبت اثرات کو بھی نوٹ کیا گیا جن سے ریونیو کی وصولی بہتر ہونے اور بجلی سے متعلقہ اکراجات میں بچت ہونے کی توقع ہے ۔










