عوامی نمائندوں کے ساتھ پلوامہ اور ریاسی بجٹ پلان پر تبادلہ خیال کیا
جموں//مسلسل تیسرے دن پری بجٹ سے متعلق مشاورت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عوامی نمائندوں اور کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مختلف شعبوں اور اضلاع کے امور اور ترقیاتی ترجیحات میں بصیرت حاصل کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر بات چیت کی ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، انتظامی سیکرٹری برائے خزانہ ، سماجی بہبود ، سیاحت ، صنعت و تجارت ، یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹری ، پلوامہ اور ریاسی کے ڈپٹی کمشنرز اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے ذاتی طور پر اور ورچوئل موڈ کے ذریعے شرکت کی ۔ عوامی نمائندوں بشمول ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کی چئیر پرسن اور پلوامہ اور ریاسی اضلاع سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اسمبلی کے ممبروں نے بجلی کی فراہمی ، پینے کے پانی کی اسکیموں ، سیلاب کے انتظام ، اسکولوں اور اسپتالوں کے عملہ ، پرائمری ہیلتھ سنٹرز کی اپ گریڈیشن ، پلوں کی تعمیر ، نئے سیاحتی مقامات ، پارکو اور پارکنگ کی سہولیات کی ترقی سے متعلق امور پر توجہ مبذول کرائی ۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مشورے بجٹ کی تشکیل کیلئے ضروری تھے جو وقتاً فوقتاً لوگوں کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ انہوں نے نچلی سطح کے چیلنجوں کو سمجھنے میں عوامی نمائندوں کے اہم کردار کو تسلیم کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے خدشات پر باقاعدہ غور کیا جائے گا ۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یہ بجٹ خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کئی برسوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب جموں و کشمیر عوامی نمائندوں کی مشاورت سے اپنا بجٹ بجٹ تیار کر رہا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مشاورت بجٹ کے عمل میں شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے شرکاء کو یقین دلایا کہ اگرچہ ہر مطالبے کو فوری طور پر حل کرنا ممکن نہیں ہے مگر کسی بھی مطالبے کو نظر اندز بھی نہیں کیا جائے گا اور بجٹ کی تشکیل کے دوران تمام خدشات کا احتیاط سے جانچ پڑتال کی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں میں خاص طور پر مذہبی سیاحت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے ۔ انہوں نے کہا اگر اس کو صحیح اور موثر طور پر فروغ دیا گیا تو صوبہ جموں مذہبی سیاحت کیلئے ہندوستان کی اولین منزل بن سکتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کیلئے قانون سازی کے فریم ورک کو تلاش کرنا چاہئیے جس سے معیاری اور اعلیٰ تعلیم کیلئے مزید مواقع فراہم ہوں گے ۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوامی نمائندوں کی قیمتی آراء کیلئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے خدشات اور تجاویز کو حکومت کی پالیسیوں اور ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا ۔ پری بجٹ سے متعلق مشاورت کے ایک علیحدہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مختلف شعبوں کے نمائندوں سے ملاقات کی جن میں صنعت اور تجارت ، سیاحت ، ہوٹل اور مہمان نوازی ، تعلیم ، معاشرتی بہبود ، قبائلی امور ، نوجوانوں کے امور اور زراعت شامل ہیں ۔ سیشن کے دوران ان شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز نے کئی اہم مطالبات پیش کئے ۔ بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کو یقینی بنانے کے عزم کی تصدیق کی کہ آئندہ جے اینڈ کے کا بجٹ لوگوں کی امنگوں کی عکاسی کرے گا اور حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے میں ان کے مطالبات کو شامل کیا جائے گا ۔










