’ناٹ اِن مائی نیم‘ہر کشمیر ی نے دہشت گردی کو کھلے دِل سے مسترد کیا ۔ وزیرا علیٰ
جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک جذباتی اور پُراثر خطاب میں دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور پہلگام دہشت گرد انہ حملے میں 26 معصوم جانوں کے ضیاع پر اِتحاد اور حوصلے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بلائے گئے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی سیشن سے خطاب کر رہے تھے ۔وزیر اعلیٰ نے اَپنی تقریر کے آغاز میں کہا،’’یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ چند روز قبل ہم اسی ایوان میں بجٹ اور دیگر اہم معاملات پر بھرپور مباحثہ کر رہے تھے۔ہمیں اُمید تھی کہ ہم معمول کے حالات میں دوبارہ ملیں گے۔ہم میں سے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ہم اِس طرح کے المناک اور تکلیف دہ حالات میں دوبارہ ملیں گے ۔‘‘وزیر اعلیٰ نے لیفٹیننٹ گورنر کاخصوصی سیشن بلانے پر شکریہ اَدا کرتے ہوئے کہا کہ اس نقصان کی شدت کو ہماری اسمبلی سے بہتر کوئی اور ادارہ سمجھ نہیں سکتا۔اُنہوں نے اراکین اسمبلی شگن پریہار، سکینہ اِیتو اور سجاد لون جیسے رہنماؤں کی قربانیوں اور یکم؍ اکتوبر 2001 ء کے اسمبلی حملے کی ہولناکی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ شاید ہی کوئی دوسرا ایوان اس درد کو اس شدت سے محسوس کر سکتا ہو۔وزیر اعلیٰ نے ایوان کی جانب سے دہشت گرد انہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرہ کنبوں سے ہمدردی اوریکجہتی کا اِظہار کیا۔اُنہوںنے کہا کہ یہ صرف ایک ریاست کے لوگوں پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ ہندوستان کی روح پر حملہ تھا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ متاثرین کا تعلق اروناچل پردیش سے گجرات، کیرالہ سے جموں و کشمیر تک پورے ہندوستان سے ہے جو ایک قومی سانحہ کی علامت ہے۔ اُنہوں نے اَفسوس کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ہم نے اُمید کی تھی کہ دہشت گردی ماضی کا قصہ بن چکی ہے، وہیں یہ المناک واقعہ بائیس برس بعد بے گناہ شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے ساتھ دہشت گردی کی واپسی کی علامت بن گیا۔اُنہوں نے اَپنی بے بسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پولیس کنٹرول روم گئے تاکہ شہیدوں کو آخری خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔ اُنہوں نے درد بھرے انداز میں سوال کیا’’کیا معافی کافی ہوگی؟‘‘
وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ اگرچہ سیکورٹی کی ذمہ داریاں اب منتخب حکومت کے پاس نہیں ہیں لیکن وزیر اعلیٰ اور وزیر سیاحت کی حیثیت سے اُنہوں نے سیاحوں کو مدعو کرنے اور ان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔وزیرا علیٰ نے حملے میں اَپنے شوہر کھونے والی ایک نئی نویلی دلہن خاتون کے دِل دہلادینے والے الفاظ بیان کرتے ہوئے کہا ،’’ہم میں سے کوئی بھی خون بہانے کی خواہش نہیں رکھتا … نہ اس ایوان میں، نہ باہر!‘‘اُنہوں نے حملے کے باوجود اُمید کی ایک کرن کی نشاندہی کی۔جموں و کشمیر بھر میں اِس حملے کی بے ساختہ اور وسیع پیمانے پر لوگوں نے مذمت کی۔ کٹھوعہ سے کپواڑہ تک عام شہریوں نے بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ’ ناٹ اِن مائی نیم‘۔وزیراعلیٰ نے زور دے کر کہا،’’یہ حملہ ہمارے لئے نہیں تھا … یہ ہمارے خلاف تھا۔‘‘اور حقیقی امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب عوام امن اور حکمرانی کی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔اُنہوں نے سری نگر کی جامع مسجد میں سوگ کے ایک اہم لمحے کا حوالہ دیا ، جہاں جمعہ کی نماز کے بعد دو منٹ کی خاموشی اِختیار کی گئی تھی۔وزیراعلیٰ نے عام کشمیریوں کی جانب سے دِکھائی جانے والی اِنسانیت کی دل دہلا دینے والی مثالیں بھی بیان کیں جیسے کہ ایک پونی والے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر سیاحوں کو بچایا، ایک فروٹ فروش نے اَپنی قلیل آمدنی کے باوجود مفت کھانے پیش کئے اور ٹیکسی ڈرائیور، ہوٹل مالکان اور کشتی بانوں نے اَپنے دل اور دروازے مہمانوں کے لئے کھول دئیے۔اُنہوںنے اُن ریاستی حکومتوں کا بھی شکریہ اَدا کیا جنہوں نے حملے کے بعد باہر کے شہروں میں کشمیری طلباء اور باشندوں کی حفاظت یقینی بنانے میں مدد کی۔انہوں نے مستقبل میں ایسے ایمرجنسی حالات میں فوری ردِّعمل کے لئے ایک مضبوط میکانزم بنانے کا اعلان کیا اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ پر سختی سے خبردار کیا،’’ہم جھوٹی خبروں کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لئے اِستعمال نہیں کریں گے۔اُنہوں نے کہا ،’’میں ان 26 جانوں کے تقدس کا اتنا احترام کرتا ہوں کہ گھٹیا سیاست نہیں کرسکتا ۔ میں آج ریاست یا کسی اور سیاسی فائدے کے مطالبے کے لئے ان کی شہادت کا فائدہ نہیں اُٹھاؤں گا۔اُنہوں نے اسمبلی کو یقین دِلایا کہ حکمرانی، حقوق اور اُمنگوں کے بارے میں بات چیت مناسب وقت پر ہوگی لیکن آج کا دن صرف غم، یکجہتی اور عزم کا دن ہے۔وزیرا علیٰ نے تمام اراکین پر زور دیا کہ وہ وحشیانہ حملے کی مذمت اور سوگوارکنبوں سے اِظہار یکجہتی کے لئے متفقہ قرارداد پاس کریں۔ بعد میں ایوان نے پہلگام میں سیاحوں پر غیر اِنسانی دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی۔ سپیکر کی جانب سے پیش کئے گئے تعزیتی ریفرنس میں جاں بحق ہونے والے 26 افراد کے نام پڑھ کر سنائے گئے۔










