دلی پبلک سکول کو شکایت کنندہ کی اضافی فیس فوری طور واپس کرنے کاحکم
سری نگر//فی فکزیشن کمیٹی جموں وکشمیرنے جبری فیس وصول کرنے کی شکایات کاسنگین نوٹس لیتے ہوئے دلی پبلک سکول بارہمولہ کو جبری فیس واپس کرنے کی ہدایت دی ہے اور حکم عدولی کی صورت میں سکول کو منسلک کرنے اور جرمانہ عائدکرنے کافیصلہ لیاہے۔ جے کے این ایس کے مطابق فی فکزیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی کے چیئرمین جسٹس مظفر حسین عطار نے ایک حکمنامہ زیر نمبر3593/FFRC جاری کیا ہے جس میں ایک شکایت کنندہ والد کاحوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ دلی پبلک سکول بارہمولہ نے فی فکزیشن کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ 3615روپے کی ٹیوشن فیس کے مقابلے میں 5115روپے کا فیس جبری طور وصول کیا ہے۔ اسی طرح والدین سے ٹرانسپورٹ فیس پر بھی12فیصد اضافہ کے بجائے 41.5فیصد کے اضافے کے ساتھ رقم وصولی ہے۔حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی ایس بارہمولہ کے چیئر پرسن اور پرنسپل کو شکایت کا ازالہ کرنے کیلئے قانونی طور پر مہلت دی گئی لیکن سکول انتظامیہ نے کمیٹی کے احکامات کوعملانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ جسٹس مظفر حسین عطار نے مزید کہا ہے کہ مذکورہ سکول کے پرنسپل اور چیرمین نے اپنے گول مول جواب میں شکایت کنندہ کے الزامات کی تردید بھی نہیں کی ہے۔انہو ںنے کہا ہے کہ ان حالات اور حقائق کے پیش نظر سکول ھٰذاکاپرنسپل اور چیئرپرسن فی فکزیشن کمیٹی کی جانب سے مقررکردہ فیس سے زائد فیس وصول کرنے کا مرتکب پایا گیا ہے۔جسٹس مظفر حسین عطارنے فیصلہ سناتے ہوئے سکول انتظامیہ کوہدایت دی ہے کہ وہ شکایت کنندہ سے وصولی گئی اضافی رقم30دنوں کے اندر اندر واپس کردے اورحکمنامے کی تعمیل سے کمیٹی کو آگاہ کرے۔ بصورت دیگر سکو ل انتظامیہ کے خلاف فی فکزیشن اینڈ ریگولیشن رولز کے سیکشن آئی سے ایف تک کے دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ان دفعات کے تحت سکول کے خلاف پہلے پچاس ہزار اور پھر ایک لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جاسکتاہے اور سکول کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش کی جاسکتی ہے۔ جرمانہ کی رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں پہلے سالانہ آمدنی کا ایک فیصد حصہ، دوسری حکم عدولی پر3 فیصد اور تیسری خلاف ورزی کے لئے 5فیصد کی رقم وصول کی جائے گی۔ جبکہ اسکے بعد سکول میں داخلہ بند کیا جاسکتاہے اور جرما نہ ادارکرنے میں ناکامی کی صورت میں تحصیلدار کے ذریعے اراضی ریونیو بقایا کے طور پر رقم وصولی جائے گی اور یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کی جائے گی۔










