بنیادی سہولیات کے فقدان پر اطراف و اکناف میں لوگوں میں انتظامیہ کے تئیں غم و غصہ
سرینگر // پینے کے پانی کی قلت نے وادی کے کئی علاقوںمیں لوگوں کو سخت مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔جس کے چلتے لوگوں کو کئی کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد پینے کا پانی حاصل کرناپڑاجبکہ سڑکوں کی خستہ حالت بجلی کی عدم دستیابی اور طبی سہولیات کے فقدان نے عوام کو مزید مصائب ومشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔سی این آئی کے مطابق وادی کے پہاڑی اور نشیبی علاقوںمیں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور لوگوں کو اس بنیادی ضرورت کو حاصل کرنے کیلئے گونا گوں مصائب ومشکلات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں ۔رفیع آباد ، بارہ مولہ ، ہندواڑہ ، کپواڑہ ، ترہگام ، لولاب ،کرالہ پورہ علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت نے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے لڑانے پر مجبور کردیا ہے جبکہ بانڈی پورہ ، گاندربل سوپور ، حاجن ، نائد کھائی ، سمبل ، صفا پورہ اور دوسرے علاقوںمیں بھی پانی کی قلت نے لوگوں کو بے حال کر دیا ہے ۔ پلوامہ کے کئی علاقوںمیں پانی کی اس قدر قلت پیدا ہو گئی ہے کہ لوگوں کو سارا دن پینے کاپانی حاصل کرنے پر صرف کرناپڑتا ہے جبکہ لوگوںکو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے سرکار کی جانب سے اقدامات نہیں اٹھائے گئے ، نمائندے کے مطابق پلوامہ کے کئی علاقوںمیں پینے کے پانی کی قلت ، بجلی کی عدم دستیابی ، سڑکوں کی خستہ حالت کی وجہ سے لوگوں کو گونا گوں مشکلات و مصائب برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی ، پی ڈی ڈی ، ہیلتھ اور آر اینڈ بی محکموںکو لوگوں کے ان مشکلات کے بارے میں بار بار آگاہ کیا گیا کہ ان کا ازالہ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاہم متعلقہ محکموں کے مطابق فنڈس کی عدم دستیابی کے باعث وہ عوام کو سہولیات بہم نہیں پہنچا سکتے ہیں۔










