سری نگر//پوری وادی کشمیر میں سرکاری احاکامات کے مطابق جمعہ کے روز بعد دو پہر جمعہ سے لاک ڈون شروع کیا گیا ہے جو پیر کے صبح6بجے تل نافذ عمل رہے گا ۔ جمعہ کے روز دو بجے کے ساتھ انتظامیہ کی جانب سے حکام بازاروں میں نمودار ہوئے اور گاڑیاں میں اعلان کر کے لوگوں کو دکان بند کرنے کا احکم دے رہے تھے اس دوران پوری وادی کے بازاروں میں مکمل سٹاٹا چھا یا رہا ہے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب ہوا ہے ۔ کشمیرنیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر کے سری نگر سمیت پورے کشمیر میں جمعے کودن کے2 بجے کے بعد ’ویک اینڈ‘ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ہی تمام بازار سنساں نظر آئے اور سڑکوں پر ٹریفک کا رش بھی آنافاناً تھم گیا۔کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگاروں کے وادی کشمیر کے تقریباً تمام اضلاع اور تحصیل صدر مقامات سے یہ اطلاع دی ہے کہ دن کے دو بجے کے ساتھ ہی انتظامیہ بازاروں اور سڑکوں پر نمودار ہوئے جہاں انہوں نے گاڑیوں میں لاوڈ سپیکروں کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ تمام دکان دار اپنی دکانیں فوری طور بند کریں جبکہ ٹرانسپوٹروں کے ساتھ ساتھ باقی لوگوں کے لئے بھی ماسک پہنے اور گھروں سے غیر ضروری طور باہر نہ آنے کی اپیل کی جا تی تھی ۔ نمائندے کے مطابق دن کے دو بجنے کے ساتھ ہی جگہ پولیس اور فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ دو بجنے کے ساتھ ہی تمام بازاروں میں دکانداروں نے اپنے اپنے دکان بند کرنے شروع کئے اور تین بجنے سے قبل ہی شہرسرینگر سمیت وادی کے تمام بازار بند ہوگئے تھے ۔واضع رہے کہ کورونا کیسز میں درج ہو رہے اضافے کے پیش نظر انتظامیہ نے ’ویک اینڈ‘ لاک ڈائون میں توسیع کر دی ہے۔سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کے تازہ حکمنامے کے مطابق اب یونین ٹریٹری میں جمعے کے روز دو بجے سے پیر کی صبح چھ بجے تک لاک ڈائون نافذ رہے گا۔سٹی رپوٹر نے بازاروں کا گشت کرنے کے بعد بتایا کہ شہر میں حکام کی گاڑیاں دو بجے سے قبل ہی بازاروں کا گشت کر رہی تھیں جن میں بیٹھے اہلکار دو بجے کے بعد لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کر رہے تھے۔اس دوران بیشتر لوگوں کو اپنے گھروں کو جاتے ہوئے دیکھا ہے جو معمول کے مطابق شام کے وقت جاتے تھے ۔واضع رہے حکومت نے جموں کشمیر میں کورونا کیسوں میں اضافے کے پیش نظر ہفتہ وار لاک ڈائون کے دورانیہ میںجمعرات کواضافہ کرکے جمعہ بعد دوپہر سے ہی بندشیں عائد کرنیکا اعلان کیا ہے۔گذشتہ ہفتے جمعہ کی شب قریب 2بجے حکومت کی جانب سے تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ سنیچر کی صبح سے ہی لاک ڈائون کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن سنیچر کی صبح عام لوگوں کے حکومتی فیصلے کے بارے میں کوئی علمیت نہیں تھی اور لاک ڈائون بھی نظر نہیں آیا تھا۔ چنانچہ پولیس کو دو پہر بعد لاوڈ اسپیکروں کے ذریعہ ہفتہ وارلاک ڈائون اعلانات کرنے پڑے۔لیکن اس ہفتے لاک ڈائون کی پچھلے ہفتے کی صورتحال دیکھ کر جمعرات کو ہی نہ صرف اعلان کیا گیا ہے بلکہ اس کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔سرکاری فیصلے کے مطابق جمعہ2بجے سے پیر صبح6بجے تک بندشیں عائد رہیں گی۔ چیف سیکریٹری کی طرف سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے جموں کشمیر میں جمعہ2بجے سے پیر صبح6بجے تک غیر ضروری نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ تاہم حاملہ خواتین ملازمین دفتروں میںحاضری سے مستثنیٰ ہوں گی اور انہیں گھر سے کام کرنے کی اجازت ہے۔لاک ڈائون کے بارے میں دیگر قواعد و ضوابط پچھلے ہفتے جاری احکامات کے مطابق ہی رہیں گے۔لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔ لاک ڈائون کا اطلاق نہ صرف مسافر ٹرانسپورٹ پر ہوگا بلکہ پرائیویٹ گاڑیوں کو بھی چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور ماسک کا استعمال کر کے نہ صرف گاڑیوں میں سفر کریں بلکہ سماجی دوری بھی اختیار کریں.۔اس دوران ایمر جنسی سروسز کو چھوڈ کر کسی کو بھی غیر ضروری طور سڑکوں پر چلنے یا کار باری ادارے کھولنے کی اجازت نہیں ہوگئی۔










