اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کشمیر وادی میں سینکڑوں کے قریب ندی نالوں دریاؤں جھیلوں کی غیرقانونی طورپرکان کنی کے باعث ان کاوجود جہاں خطرے میں پڑگیاہے وہی کسان باغ مالکان پریشانیوں کاسامناکررہے ہیں وادی کشمیرکی آبادی کاایک بڑاطبقہ پینے کے پانی سے محروم ہوتی جارہی ہیں۔ غیرقانونی کا ن کنی کوروکنے میں فلڈکنٹرول اریگیشن مائینگ اینڈزولوجی کے محکمے برُی طرح سے ناکام ہوچکے ہیں اور عوامی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ غیرقانونی کان کنی خود ہی پھوٹ دی ہے تاکہ وہ بالائی امدانی کوحاصل کرسکے ۔شمالی وسطی اور جنوبی کشمیرکے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افرا دنے ا س با ت کاانکشاف کیاہے کہ راج بھون سیول سیکریٹریٹ سے جتنے بھی احکامات عوام کی فلاح وبہبود کے لئے صادرکئے جاتے ہیں زمینی سطح پرزیادہ سے زیادہ بیس فیصد ان پرعمل کی جاتی ہے او رسترفیصداحکامات کوعملانے کے لیئے سرکاری مشنری اپنی خدمات انجام دینے کے لئے تیارنہیں ہے ۔ عوامی حلقوں کاکہناہے وادی کشمیرکو جنت بے نظیراس لئے کہاجاتا تھاکہ یہاں کے جرنے سال بھرگرجتے تھے یہاں کے ندی نالے دریااو رجھیل ہمیشہ پانی سے لبریز رہاکرتے تھے یہاں کے جنگلوں سے سردہوائیں سیاحوں او مقامی لوگوں کوسکون فراہم کرتاتھاتاہم پچھلے کئی برسوںسے قانون کی خلاف ورزی شجرممنوعہ تصورنہیں کیاجاتا ہردن غیرقانونی کان کنی کے سلسلے میں ٹپروں ٹریکٹروں ڈمپروں کوضبط کرنے ڈرائیو روں کوگرفتارکرنے کی خبریں سوشل میڈیاپروائرل کی جاتی ہے دن کے اُجاے میں ٹریکٹروںٹپروں ڈمپروں کوتوضبط کیاجاتاہے لیکن رات کی اندھیری میں ان ندی نالوں دریاؤں سے ریت ، بجری ،بولڈر نکالنے کاسلسلہ جاری رہتاہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق کشمیر وادی کی اراضی کوسیراب کرنے کے لئے ندی نالے اپنی ذمہ داریاں اداکرتے تھے تاہم جب سے غیرقانونی کان کنی کاسلسلہ شروع ہوا ہے یہ ندی نالے اسقدر گہرے ہوگئے ہے کہ قابل کاشت اراضی او رآبی اول کی زمین اب ان ندی نالوں سے سیراب نہیں ہواکرتی ہے ندی نالوں، دریاؤں کی حالات کو تباوہ برباد کردیاہے ہرسال دودرجن سے زیادہ افراد سیروتفریح کے دوران ندی ندی نالوں میں گرکر لقمہ اجل ہوا کرتے ہے ۔ایسااس لئے کہ ان میں اسقدربڑے گڑے بن گئے ہے انسان کاان سے اوپرآنامشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے اب ندی نالے سیراب ہو کرتی گرجتے ہے لیکن غیرقانونی طورپرکان کنی کرنے والے ان کاپیچھانہیں چھوڑرہے ہیں۔ عوامی حلقوں کاکہناہے سرکار اور اس کے کل پرزے کس مرض کی دواہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔لوگوں کاکہنا ہے کسی بھی ملک ریاست یامرکزی زیرانتظام علاقے کی ترقی کادارومدار فصلوں کی پیداوارپرہواکرتی ہے تویہاں کاباورآدم ہی نیرلا چندافراد لاکھوں لوگوں کوبے روز گار بنانے انہیں روزی روٹی سے محروم کرنے کی کروڑوں امدانی کونیست نابود کرنے کے لئے متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جموں کشمیرمیں سرکار اس با ت کاسنجیدہ نوٹس کیوں نہیں لے پارہی ہے یہ بھی المیہ سے کم نہیں ۔عوامی حلقوں کاکہناہے رواں برس کے دوران ایک ہزار سے زیادہ ہیکٹئراراضی پردھان کی فصل سوکھ گئی ہے او رپہاڑی علاقوںمیں تین سے چار ہزارہیکٹئرکی فصلیں سوکھنے کے قریب پہنچ گئی ہے ۔
ملک کی جہاز سازی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود
روہنگیا کے خلاف اچانک کارروائی پر عمر عبداللہ نے سوال اٹھائے
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے جموںوکشمیر کے دُور افتادہ اور سہولیات سے محروم علاقوں میں موبائل ٹاوروں کیلئے زمین کی فراہمی کی منظور ی دِی
نائب وزیراعلیٰ نے سِلک فیکٹری راجباغ میں کیفے ہائوس او رگیسٹ ہائوس کی تجدیدو مرمت کے کام کا سنگ بنیاد رکھا
جاوید رانا نے لولاب حلقے میں 10واٹرسپلائی سکیموں کا اِی ۔اِفتتاح کیا
این اے سی ایم کے وفدکی سپیکر جموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی سے ملاقات
لکڑی کی نیلامی کیلئے ماہانہ ہدف مقرر کریں ۔ جاوید رانا
وزیر اعلیٰ نے کشمیر میراتھن کی تیاریوں کا جائیزہ لیا
ایس ایم سی افسران کیلئے گھریلو کمپوسٹنگ لازمی
اودھم پور میں فائر مین 15 ہزار روپے رشوت لیتے گرفتار










