دکانات، مکانات اور دیگر ڈھانچوں کی تعمیر سے زرعی سیکٹر کو نقصان
سرینگر//ضلع اننت ناگ اور کولگام کے درمیان ناندی ڈل سب سے بڑا ایگری کلچر زمین جو کہ ہزاروں کنال پر مشتمل ہے ۔ نصف کشمیر کو اسی علاقے سے دھان و غیرہ فصل فراہم کیا جاتا تھا تاہم اب ناندی ڈل کی اراضی پر بھی عمارات ، دکانیں اور رہائشی مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ علاقے میں زرعی اراضی ختم ہوتی جارہی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ اور کولگام کے درمیان علاقہ ناندی ڈل جب جنوبی کشمیر میں سب سے بڑا ایگریکلچر لینڈ مانا جاتا ہے جو نصب کشمیر کو دھیان ، سبزی ، میوہ جات فراہم کرتا ہے تاہم گزشتہ پانچ دس برسوں کے دوران نادی ڈل میں بھی دکانات، رہائشی مکانات اور دیگر ڈھانچے تعمیر کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے یہ اراضی اب تجاری اور رہائشی کالنیوں میں تبدیل ہورہی ہے ۔ ناندی ڈل میں مختلف اقسام کے دھیان کی فصل کے علاوہ میوہ جات ، سروسوں ، اور سبزیوں کی مختلف اقسام کی کاشت ہوتی ہے اور یہاں سے نہ صرف ضلع کولگام اور ضلع اننت ناگ بلکہ وادی کی دیگر سبزی منڈیوں کو سبزیاں اور دیگر فصل سپلائی ہوتی ہے ۔ تاہم گزشتہ پانچ دس برسوں میں زرعی اراضی کے ایک بڑے حصے پر تجارتی اور رہائشی ڈھانچے تعمیر ہورہے ہیں ۔ اس ضمن میں وی او آئی نمائندے امان ملک نے جب چیف ایگریلچر آفیسر اننت ناگ سے بات کی تو انہوںنے کہا کہ زرعی اراضی کو رہائشی اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کے بہت سے نقصانات ہے جن میں سب سے بڑا نقصان ہمیں معیاری غذائیت کی کمی اور پانی کی نایابی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن کا بگاڑ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اب ایسی غذاکا استعمال کیا جارہا ہے جس میں پانی کا استعمال نہیں ہورہا ہے کیوں کہ ماحولیاتی توازن کے بگاڑ کی وجہ سے پانی کی کمی ہورہی ہے ۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے ہمارے یہاں برفباری میں تاخیر ہونے لگی ہے اور نتیجتاً بالائی علاقوں میں پڑنے والی برف کو منجمد رہنے کیلئے خاصا کم وقت ملتا ہے۔ ’’ہم یہ تو سنتے ہیں کہ اس سال بالائی علاقوں میں شدید برفباری ہوئی ہے، لیکن دیر سے برف پڑنے کی وجہ سے اس برف کو وہاں (بالائی علاقوں میں) جمے رہنے کا زیادہ وقت نہیں مل پاتا۔ جلد ہی موسم گرمانے لگتا ہے اور اس برف کا بیشتر حصہ پگھل کر بہہ جاتا ہے،‘‘ انہوں نے وضاحت کی اگر لوگ زرعی اراضی کی پیروی کریں گے اور زرعی شعبہ کو بحیثیت روزگار اپنائیں گے تو یہ کافی منافع بخش ثابت ہوتا ہے کیوں کہ اگر ہم دکان اور دیگر کاروبار شروع کرتے ہیں تو اس میں ایک موٹی رقم صرف کرنی پڑتی ہے اور منافع کم ہوتا ہے لیکن کاشتکاری میں لاگت کم اور منافع زیادہ ہوتا ہے ۔










