ناساز گار صحت کی وجہ سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے

ناساز گار صحت کی وجہ سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے

سرینگر اور بارہمولہ نشستوں کیلئے بہتر امیدوار چننا پارٹی کی ذمہ داری ۔ عمر عبداللہ

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ صحت کی ناسازگاری کی وجہ سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس بار پارلیمانی انتخابات نہیں لڑیں گے ۔ انہوںنے بتایا کہ اس بار انتخابات مختلف ہوں گے اور پارٹی کو سرینگر اور بارہمولہ کیلئے بہتر امیدوار چننے ہوں گے ۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا ہے کہ اس بار نہ بندوق کا زور ہو گا اور ناہی بائیکاٹ کی کال ہوگی اسلئے سرینگر کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یہاں کی سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آواز اٹھانا چاہتے ہیں یا نہیں، وہ اپنا نمائندہ منتخب کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر اور سری نگر سے موجودہ رکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ اس بار صحت کی وجہ سے لوک سبھا انتخابات نہیں لڑیں گے۔ بدھ کو این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے سری نگر کے مضافات میں راولپورہ میں پارٹی کے ایک پروگرام کے دوران یہ جانکاری دی۔عمر عبداللہ نے کہاانہوں نے (فاروق عبداللہ) (پارٹی جنرل سکریٹری) (علی محمد) ساگر اور دیگر پارٹی ممبران سے اس بار ان کی صحت کی وجہ سے الیکشن نہ لڑنے کی اجازت لی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حلقے سے بہترین امیدوار کھڑا کرے۔انہوںنے بتایا کہ سری نگر اور بارہمولہ سیٹوں سے امیدواروں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ این سی نے اننت ناگ-راجوری سیٹ پر میاں الطاف کو میدان میں اتارا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رائے دہندگان این سی امیدوار کی کامیابی میں مدد کریں گے تاکہ وہ مرکز میں کشمیر کے لوگوں کی آواز بن سکے۔عمر عبداللہ کو 2002 کے اسمبلی انتخابات میں این سی کی قیادت کے لیے چنا گیا تھا، جب کہ 86 سالہ فاروق عبداللہ مرکزی سیاست میں سرگرم ہو گئے تھے۔ فاروق عبداللہ 2002 میں جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور پھر 2009 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔ انہوں نے مئی 2009 میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا اور سری نگر سے لوک سبھا کی نشست جیتی۔عبداللہ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی حکومت میں نئی ور قابل تجدید توانائی کے کابینہ وزیر رہ چکے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے 2014 کے انتخابات میں سری نگر لوک سبھا سیٹ سے دوبارہ انتخاب لڑا لیکن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار طارق حمید قرہ سے ہار گئے۔تاہم قرہ نے 2017 میں لوک سبھا سے استعفیٰ دے دیا، جس کے نتیجے میں سری نگر پارلیمانی نشست پر ضمنی انتخاب ہوا، جسے عبداللہ نے پی ڈی پی امیدوار نذیر احمد خان کو شکست دے کر جیت حاصل کی تھی ۔ ادھرعمر عبداللہ نے کہا کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات پچھلے انتخابات سے بہت مختلف ہیں۔ عمر نے کہاکہ پچھلے 30 سالوں سے انتخابات کسی نہ کسی طریقے سے متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ واضح رہے کہ بندوق کی وجہ سے ہو یا بائیکاٹ کی کال، سری نگر میں سیاست محدود تھی۔ کچھ علاقے ووٹ ڈالنے نکلتے تھے اور اسی بنیاد پر سیاست چلائی جاتی تھی۔انہوںنے کہا کہ این سی کے نائب صدر نے کہااس بار ماحول مختلف ہوگا۔ ہمیں بائیکاٹ کی کوئی کال نظر نہیں آئے گی، اور بندوقوں کا بہت کم اثر پڑے گا۔ اس بار سری نگر کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یہاں کی سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آواز اٹھانا چاہتے ہیں یا نہیں، وہ اپنا نمائندہ منتخب کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔