سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع ہیڈکواٹر اننت ناگ میں قائم میڈیکل کالج میں ماہرمعالجین کی عدم دستیابی سے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ اسپتال میں اینڈوکرینولوجسٹ سمیت کئی امراض کے ماہر ڈاکٹر دستیاب نہیں ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کو گونا گوں مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آجکل ذیابطیس یعنی شوگر ،بلڈ پریشر ،تھائرائڈاور دیگر دائمی امراض میں لوگ مبتلا ہوچکے ہیں اور ا ن امراض کی مہارت رکھنے والے ڈاکٹروں کا سپتالوں میں تعینات لازمی بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر سرینگر کے بڑے اسپتالوں بشمول ایس ایم ایچ ایس ،میڈیکل انسٹی چیوٹ صورہ میں اگر چہ ماہرین امراض معالجین دستیاب ہیں لیکن ضلع میں وسیع وعریض محیط پر واقع میڈیکل کالج یا اسپتالوں میں ماہرین کی کمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب دائمی مریض اسپتال جاے ہیں تو ماہرین کے بجائے عام فزیشن ان کا علاج ومعالجہ کرتے ہیں جو ان کیلئے افاقہ کے بجائے بیماری میں اضافہ ہونے کا سبب بنتاہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اس پالیسی کافی مایوس ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے شعبہ صحت کے ڈائریکٹر اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال ہذا میں اینڈوکرینولوجسٹ سمیت دیگرماہرامراض ڈاکٹروں کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع میں دائمی بیماریوں میں مبتلا مریض کا بر وقت علاج ممکن ہوسکے اور وہ راحت محسوس کریں گے ۔










