میلے کے بعد وادی بنگس ایک کوڈے دان میں تبدیل

جگہ جگہکوڈا کرکٹ،کہیں کوئی کوڈے دان نہیں :محکمہ ٹورزم کی لاپرواہی کا نتیجہ

ہندوارہ//گزشتہ روز بنگس میلے کے دوران اس وقت ایک منظر ایسا بھی دیکھنے کو ملا جب اس میلے میں آئے نائب میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر اعجاز احمد بٹ نے میلے کے اختتام کے بعد ہی بنگس کی اس خوبصورت جگہ کو ایک کوڈا دان میں تبدیل ہوتے ہوئے نظر آیا تو ڈاکٹر اعجاز سے رہا نہیں گیا تو انہوں نے خود اپنی کرسی سے اٹھکر اس کوڈا کرکٹ کو صاف کرنے کی کوشش شروع کی ۔جے کے این ایس نامہ نگار طارق راتھرکے مطابق اس دوران اگر چہ ڈاکٹر اعجاز نے باقی افراد کو بھی اس کوڈا کرکٹ ہٹانے کے مدد کیلئیبولا تو کسی نے بھی گورا نہیں کیا کسی نے اس ڈاکٹر کی اس کوڈا کرکٹ کو ہٹانے میں مدد کی زہامت نہیں کی اور ڈاکٹر اکیلے ہی ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں محکمہ ٹوزم کے ان ملازمین کے سامنے بھی ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک صاف صفائی کی ان ہزاروں لوگوں نے یہاں ڈالے گئی گندگی کو اکیلے صاف کیا اور ایک جگہ جمع کرکے اس کو جلادیا اس کو دیکھکر جب وہاں موجودہ میڈیا نمائندوں نے دیکھا کہ ایک اکیلا ڈاکٹر اس کوڈا کرکٹ کو صاف کرتے دیکھا گیا تو انہوں نے ڈاکٹر سے سوال کیا کہ آپ نے اکیلے اس کوڈا کرکٹ کو صاف کیا تو انہوں نے کہا میں نے بولا کچھ افراد کو مدد کرنے کی لیکن انہوں نے انکار کیا انہوں نے غصے میں آکر کہا کہ آج کا جو یہ بنگس میلہ کا پروگرام تھا یہ بنگس میلہ نہیں ایک پوزن میلہ ہے کیونکہ اتنے بڑے پروگرام کو منعقد کیا گیا لیکن ڈسٹبین کا استعمال نہیں کیا گیا نا اس کوڈا کرکٹ کو ایک جگہ جمع کرنے کیلئے کسی دوسری چیزوں کا ستعمال کیا گیا جس میں یہاں پڑی گندگی اس میں ہی ایک جگہ جمع کیا جاتا تآکہ اس بنگس میں تباہی نہیں پھیل پاتی یہ بدقسمتی ہے کہ محکمہ ٹوزم نے یہاں ڈسٹبین کا استعمال نہیں کیا گیا اور اس کوڈا کرکٹ پلاسٹک اور پالتھین بیگس سے اس خوبصورت وادی کی حالت تباہ ہوجائے گی اور وہ دن دور نہیں جب اس خوبصورت وادی کا حال بے حال ہوتا ہوا نظر آئے بتادیں گزشتہ روز بنگس میلے ایک پوزن میلے میں تبدیل ہوتا نظر آیا یہ منظر اس وقت کو دیکھنے کو ملا جب محکمہ توزم نے بنگس میلے کا انعقاد کیا تھا جسمیں ہزاروں لوگ موجود تھے لیکن اتنے بڑے میلے میں ڈسٹبین موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس میلے میں آئے ہزاروں لوگ جن میں خواتین اور بچوں کی بھی ایک خاصی تعداد نظر آئی انہوں نے یہاں کوڈا کرکٹ ڈال دیاجس سے پورا بنگس کوڈا دان میں تبدیل ہوگیا ہزاروں لوگوں نے ڈالی پالتھین اور ڈسپوز گلاس کپ اور کول ڈرنک کے بوتلے پھینک دیے جس سے یہ بنگس میلہ ایک پوزن میلے میں تبدیل ہوتا ہوا نظر آیا کیونکہ ایک طرف سرکار بڑے بڑے بلند بانگ دعوے کرہی ہے پلاسٹک اور پالتھین پر مکمل طور پابندی عائد کی جارہی یے لیکن بنگس میں ہزاروں لوگوں نے ڈالے گندگی کوڈا کرکٹ سے اس بنگس کی خوبصورت وادی ایک گندگی میدان میں تبدیل ہوجائے گی یہاں یہ سوال اتھایا جارہا یے محکمہ ٹوزم کے ان ملازمین پر جنہوں نے اس پروگرام کو منعقد کرنے اور سجانے کے دوران ڈسٹبین کا استعمال نہیں کیا ہے جو ایک بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک طرف محکمہ ٹوزم بنگس وادی کو ایک خوبصورت سیاحتی مقام میں تبدیل کرنی چاہتی ہے یہاں ہر طرح کی گندگی اور کوڈا کرکٹ سے پاک رکھنے کے دعوے کرتے ہے تاکہ یہاں کا یہ خوبصورت اور صاف شفاف آب وہوا گندگی میں تبدیل نہ ہوا لیکن یہاں اندازا لگایا جاتا یے کہ یہاں محکمہ ٹوزم صرف ایک روز کا میلہ منعقد کرنے کیلئے آتے ہیں باقی زمینی سطح پر جن کاموں کی ضرورت ہے وہ نہیں کئے جارہے ہیں اس بنگس میں نہ ہی واشرومز یے نہ ہی بیٹھنے کے لئے ٹنٹ نہیں ہے موصلاتی نظام نہیں ہے ہر طرح کی سہولیات سے محروم ہے۔